سیِّدُنا محمد بن سوقہ رَحْمَۃُ اللہِ عَلَیْہ سے مروی احادیث
آپ نے حضرتِ سیِّدُنا انس بن مالک اور حضرتِ سیِّدُنا ابوطفیل عامر بن واثلہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُمَا کی زیارت کی ہے اور ان سے احادیث بھی روایت کی ہیں اور جَیِّد تابعین کرام میں سے حضرتِ سیِّدُنا عمرو بن میمون، حضرتِ سیِّدُنا زِر بن حُبیش، حضرتِ سیِّدُناابووائل شقیق بن سلمہ ، حضرتِ سیِّدُنا امام شعبی، حضرتِ سیِّدُنا ابراہیم نَخعی اور حضرتِ سیِّدُنا سعید بن جبیر سے اور تابعین حجاز میں سے حضرتِ سیِّدُنا نافع بن جبیر، حضرتِ سیِّدُنا محمد بن منکدر اور حضرتِ سیِّدُنا ابن عمر کے آزاد کردہ غلام حضرتِ سیِّدُنا نافع رِضْوَانُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِمْ اَجْمَعِیْن سے روایات نقل کی ہیں۔
(6120)…حضرتِ سیِّدُنا سفیان بن عُیَیْنَہ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ کا بیان ہے کہ میں نے حضرتِ سیِّدُنا محمد بن سوقہ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ سے پوچھا:”آپ نے حضرتِ سیِّدُنا انس بن مالک رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ کو دیکھا ہے؟“تو آپ نے فرمایا:”میں نے انہیں انتہائی بڑھاپے کی حالت میں دیکھا لیکن اُن کی بینائی سلامت تھی۔“
فرض قبول ہے نہ نفل:
(6121)…حضرتِ سیِّدُنا انس بن مالک رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ سے روایت ہے کہ رسولُاللہ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے دروازے کی دونوں چوکھٹیں پکڑ کر ارشادفرمایا:خُلفاقریش سے ہوں گے،ان کا تم پر اور تمہارا اُن پر حق ہےجب تک وہ تین کام کرتے رہیں:(۱)…جب وہ حاکم بنیں تو حُسنِ سلوک کریں (۲)…جب ان سے رحم کی اپیل کی جائے تو رحم کریں اور (۳)…جب تقسیم کریں تو انصاف کریں۔ اگر انہوں نے ایسا نہ کیا توان پر اللہ عَزَّ وَجَلَّ،فرشتوں اور تمام لوگوں کی لعنت ہے اور ان کا فرض قبول کیا جائے گا نہ نفل۔(1)
محبت کے جھوٹے دَعوےدار:
(6122)…حضرتِ سیِّدُناعلیُّ المرتضٰیکَرَّمَ اللہُ تَعَالٰی وَجْہَہُ الْکَرِیْمسےروایت ہے:”یہ اُمَّت73فرقوں میں بَٹ جائے گی، ان میں سے شریر فرقہ وہ ہوگا جو ہم سے محبت کا جھوٹا دعوٰی کرے گا اور ہمارے طریقے پر نہ ہوگا۔“
مـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــدینـــہ
…مسند الطيالسی،الافراد عن انس،ص۲۸۴، حدیث:۲۱۳۳بتغیر
مسندامام احمد،مسند انس بن مالک،۴/ ۲۵۹ ،حدیث:۱۲۳۰۹بتغیر