Brailvi Books

حِلْیَۃُ الْاَوْلِیَاء وَطَبَقَاتُ الْاَصْفِیَاء(جلد:5)ترجمہ بنام اللہ والوں کی باتیں
129 - 531
کمزوروں کی دعا:
(6536)…حضرتِ سیِّدُناسعد بن ابی وقاص رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ سے روایت ہےکہ مُصْطفٰے جانِ رحمت صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے ارشاد فرمایا:”کمزورلوگوں کی دعاؤں کے سبب مسلمانوں کی مدد کی جاتی ہے۔“(1)
(6537)…حضرتِ سیِّدُناعثمان بن ابوالعاصرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ سےمروی ہےکہ حضور نبیِّ کریم،رَءُوْفٌ رَّحیم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے مجھ سے آخری عَہد یہ لیا:”جب تم کسی قوم کی امامت کروتو ہلکی نماز پڑھاؤ کیونکہ ان میں بوڑھے، مریض، کمزور اور حاجت مند ہوتے ہیں۔“(2)

٭…٭…٭…٭…٭…٭

حضرتِ سیِّدُنا عَمرو بن قَیس مُلائی رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ
	حضرتِ سیِّدُناعَمروبن قیس ملائی رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ تبع تابعی بزرگ ہیں،آپ خوف وخَشیَّت والے قاریِ قرآن اور عاجزی وانکساری کے پیکر تھے۔
(6538)…حضرتِ سیِّدُنا سفیان ثَوری عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْقَوِی نے فرمایا:”اہل کوفہ میں پانچ افراد  روزہی نیکیوں میں بڑھ جایا کرتے تھے۔“پھرآپ نےحضرتِ سیِّدُناعبدالملک بن اَبجر،حضرتِ سیِّدُنا ابوحَیّان تیمی،حضرتِ سیِّدُنا عَمرو بن قیس،حضرتِ سیِّدُنا محمدبن سُوقہ اور حضرتِ سیِّدُناابوسِنان رَحِمَہُمُ اللہُ تَعَالٰی کا ذکر کیا۔
جنازے میں فرشتوں کی آمد:
(6539)…حضرتِ سیِّدُنا سفیان عَلَیْہِ رَحْمَۃُ  الرَّحْمٰن فرماتےہیں:حضرتِ سیِّدُناعَمروبن قیس رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ نے مجھے ادب واخلاق،قراءتِ قرآن اور علم میراث سکھایا۔میں انہیں بازار میں تلاش کرتا اگر وہاں نہ ملتے تو گھر میں نماز پڑھتے یاتلاوتِ قرآن کرتے ملتےگویا آپ ان کاموں کو پہلے سے ادا کرنا چاہتے ہیں جن کے چھوٹ جانےکااندیشہ ہے۔اگر گھر میں نہ ملتے تو کوفہ کی کسی مسجد کے کونے میں چور کی طرح بیٹھے گریہ وزاری کررہے 
مـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــدینـــہ
…بخاری، کتاب الجھاد، باب من استعان بالضعفاء…ا لخ، ۲/ ۲۸۰، حدیث:۲۸۹۶، مفھوما
…مسلم،کتاب الصلاة،باب امر الائمة بتخفیف الصلاةفی تمام،ص۲۴۴،حدیث:۴۶۸