Brailvi Books

حِلْیَۃُ الْاَوْلِیَاء وَطَبَقَاتُ الْاَصْفِیَاء(جلد:5)ترجمہ بنام اللہ والوں کی باتیں
126 - 531
چیزوں کا سامنا کیسے کرو گے(۱)…گردنیں کاٹنے والی دنیا(۲)…عالم کی لغزش اور (۳)…منافق کا قرآن میں جھگڑنا۔ لوگوں پر سکتہ طاری ہوگیا۔ آپ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ نے فرمایا: عالم اگر ہدایت پر ہو تو اپنے دین کو مکمل طور پر اس کے سپرد  نہ کرو اور اگر عالم کسی فتنہ و آزمائش میں مبتلا ہوجائے تو اس سے اپنی امیدیں مت توڑنا کیونکہ مومن فتنے میں پڑنے کے بعد توبہ کر لیتا ہے۔ قرآنِ کریم راستہ بتانے والی واضح نشانیوں کی طرح ہے، جب تمہیں اس کا کوئی حکم سمجھ آجائے تو کسی سے نہ پوچھو، جب تمہیں اس کے کسی حکم میں شک ہو تو اس کے جاننے والے سے پوچھو یا اسے اللہ عَزَّ  وَجَلَّ کے سپردکردو۔ اور دنیا  کامعاملہ یہ ہے کہ اللہ عَزَّ  وَجَلَّ نے جس کے دل میں تونگری رکھ دی وہ کامیاب ہو گیا ورنہ دنیا اسے فائدہ نہیں دے گی۔
حضورصَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّم سارے عالَم کے نبی ہیں:
(6528)…حضرتِ سیِّدُناصَفوان بن عَسّال رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ بیان کرتے ہیں کہ ایک یہودی نے دوسرے سے کہا:مجھے ان  نبی کے پاس لے چلو۔ دوسرے نے کہا:”انہیں نبی نہ کہو کیونکہ اگر انہوں نے سن لیا تو ان کی چار آنکھیں ہوجائیں گی(یعنی خوش ہوجائیں گے)۔“ بہرحال وہ بارگاہِ رسالت میں حاضر ہوئے اور اللہ عَزَّ  وَجَلَّ کے فرمان: وَلَقَدْ اٰتَیۡنَا مُوۡسٰی تِسْعَ اٰیٰتٍۭ بَیِّنٰتٍ (پ۱۵،بنی اسرآئیل:۱۰۱)(کی نشانیوں)کے بارے میں پوچھا۔ حضور اکرم، نورِ مجسَّم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے ارشاد فرمایا:”(۱)…اللہ عَزَّ  وَجَلَّ کا شریک نہ ٹھراؤ (۲)…جس جان کا قتل اُس نے حرام فرمادیا اسے ناحق قتل نہ کرو (۳)…زنا سے بچو (۴)…چوری نہ کرو (۵)…کسی بےقُصور کو قتل کے لئے حاکم کے پاس نہ لےجاؤ (۶)…سود نہ کھاؤ(۷)…کسی پاکدامن پر تُہمت نہ لگاؤ (۸)…جنگ سے نہ بھاگو اور (۹)…اے یہودیو! بالخصوص تم پر لازم ہے کہ ہفتہ  کے دن کے بارے میں حد سے نہ بڑھو۔“یہ سن کر وہ آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کے ہاتھوں کو بوسہ دے کرکہنے لگے:”ہم گواہی دیتے ہیں کہ آپ اللہ عَزَّ  وَجَلَّ کے رسول ہیں۔“ارشاد فرمایا:”پھر میری پیروی سے تمہیں کس چیز نے روکا ہے؟“انہوں نے کہا:”حضرتِ سیِّدُنا داود عَلٰی نَبِیِّنَاوَعَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام نے دعاکی تھی کہ نبوت ان کی اولاد میں رہے۔(1) اور ہمیں ڈرہےکہ اگر ہم آپ کی پیروی کریں 
مـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــدینـــہ
…یہ ان کا خالص اِفتراءتھا، سارے نبیوں نے ہمارے حضور کی پیش گوئی کی۔ داؤد عَلَیْہِ السَّلَام یہ دعا کیسے مانگ سکتے تھے۔ توریت و زبور میں خبرتھی کہ محمدمصطفٰے (صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّم) سارے عالَم کے نبی ہوں گے، تمام شریعتوں کے ناسخ۔(مراٰۃ المناجیح، ۱/ ۷۷ملتقطاً)