پانچ چیزوں کاعلم:
(6526)…حضرتِ سیِّدُناعبداللہ بن مسعود رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ فرماتے ہیں:ہمارے پیارےنبیصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کو ہر چیز عطاکی گئی ہے سوائے ان پانچ چیزوں کے(جو قرآن مجید کی اس آیت میں مذکور ہیں):
اِنَّ اللہَ عِنۡدَہٗ عِلْمُ السَّاعَۃِ ۚ وَ یُنَزِّلُ الْغَیۡثَ ۚ وَ یَعْلَمُ مَا فِی الْاَرْحَامِ ؕ وَمَا تَدْرِیۡ نَفْسٌ مَّاذَا تَکْسِبُ غَدًا ؕ وَمَا تَدْرِیۡ نَفْسٌۢ بِاَیِّ اَرْضٍ تَمُوۡتُ ؕ اِنَّ اللہَ عَلِیۡمٌ خَبِیۡرٌ ﴿٪۳۴﴾ (پ۲۱،لقمٰن:۳۴)
ترجمۂ کنز الایمان: بےشک اللہ کے پاس ہے قیامت کا علم اور اتارتا ہےمینہ اورجانتا ہے جو کچھ ماؤں کے پیٹ میں ہے اور کوئی جان نہیں جانتی کہ کل کیا کمائے گی اور کوئی جان نہیں جانتی کہ کس زمین میں مرے گی بےشک اللہ جاننے والا بتانے والا ہے۔(1)
عالم سے در گزر کرو:
(6527)…حضرتِ سیِّدُنامعاذبن جبل رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ نے دورانِ خطاب فرمایا:اے گروہِ عرب! تم تین
مـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــدینـــہ
…مفسر شہیر حکیم الامت مفتی احمد یار خان نعیمی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْقَوِی اس آیت کے تحت بیان فرماتے ہیں کہ اس آیت میں جن پانچ چیزوں کے علم کی خصوصیّت اللہ تبارک و تعالٰی کے ساتھ بیان فرمائی گئی انہیں کی نسبت سورۂ جن میں ارشاد ہوا”Oعٰلِمُ الْغَیۡبِ فَلَا یُظْہِرُ عَلٰی غَیۡبِہٖۤ اَحَدًا ﴿ۙ۲۶﴾ اِلَّا مَنِ ارْتَضٰی مِنۡ رَّسُوۡلٍ(ترجمۂ کنز الایمان:غیب کا جاننے والا تواپنے غیب پر کسی کو مسلط نہیں کرتا سوائے اپنے پسندیدہ رسولوں کے۔ پ۲۹،الجن۲۶،۲۷:)“غرض یہ کہ بغیر اللہتعالٰی کے بتائے ان چیزوں کا علم کسی کو نہیں اور اللہ تعالٰی اپنے محبوبوں میں سے جسے چاہے بتائے اور اپنے پسندیدہ رسولوں کو بتانے کی خبر خود اس نے سورۂ جن میں دی ہے خلاصہ یہ کہ علمِ غیب اللہتعالٰیکے ساتھ خاص ہے اور انبیاء و اولیاء کو غیب کا علم اللہتعالٰی کی تعلیم سے بطریقِ معجِزہ و کرامت عطا ہوتا ہے، یہ اس اِختصاص کے منافی نہیں اور کثیر آیتیں اور حدیثیں اس پر دلالت کرتی ہیں، بارش کا وقت اور حمل میں کیا ہے اور کل کو کیا کرے اور کہاں مَرے گا ان امور کی خبریں بَکثرت اولیاء و انبیاء نے دی ہیں اور قرآن وحدیث سے ثابت ہیں۔ حضرت ابراہیم عَلَیْہِ السَّلَام کو فرشتوں نے حضرت اسحٰق عَلَیْہِ السَّلَام کے پیدا ہونے کی اور حضرت زکریا عَلَیْہِ السَّلَام کو حضرت یحییٰ عَلَیْہِ السَّلَام کے پیدا ہونے کی اور حضرت مریم کو حضرت عیسٰی عَلَیْہِ السَّلَام کے پیدا ہونے کی خبریں دیں تو ان فرشتوں کو بھی پہلے سے معلوم تھا کہ ان حملوں میں کیا ہے اور ان حضرات کو بھی جنہیں فرشتوں نے اِطلاعیں دیں تھیں اور ان سب کا جاننا قرآنِ کریم سے ثابت ہے تو آیت کےمعنیٰ قطعاً یہی ہیں کہ بغیر اللہتعالٰی کے بتائے کوئی نہیں جانتا ۔ اس کے یہ معنیٰ لینا کہ اللہتعالٰی کے بتانے سے بھی کوئی نہیں جانتا مَحض باطل اور صدہا آیات و احادیث کے خلاف ہے۔(خزائن العرفان،پ۲۱، لقمٰن، تحت الآیہ:۳۴)