قابل تعجب لوگ:
(6522)…حضرتِ سیِّدُناعَمرو بن مرّہ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ بیان کرتے ہیں کہ حضور نبیِّ کریم،رَءُوْفٌ رَّحیم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم اپنے صحابہ کے پاس تشریف لائےاورفرمایا: تقدیر پر راضی رہنے والے کہاں ہیں؟ اچھے کاموں کے لئے کوشاں رہنے والے کہاں ہیں؟مجھےاس شخص پرتعجب ہے جو باقی رہنے والے گھر پر یقین رکھتا ہے پھر بھی دھوکے کے گھر کے لئے کوششیں کرتاہے۔
(6523)… حضرتِ سیِّدُناعَمرو بن مرّہ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ بیان کرتے ہیں کہ حضرتِ سیِّدُنا داود عَلٰی نَبِیِّنَاوَعَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام یوں دعا کرتے:اے پر وردگار!میں تیری نعمتیں کیسے شمار کرسکتا ہوں، میں تو خود سر تا پا نعمت ہوں۔
مُصْطفٰے جانِ رحمت کی رحمت بھری دعا:
(6524)…حضرتِ سیِّدُناعبداللہ بن ابواوفیٰ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ بیان کرتے ہیں کہ جب کوئی گھروالا بارگاہِ رسالت میں اپنا صدقہ لاکرجمع کرواتاتوآپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم اسے دعادیتے،جب میرے والد صدقہ لائے تو آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے یوں دعادی : الٰہی!آلِ ابواوفیٰ پر رحمت نازل فرما۔(1)
دعائے مصطفٰے کا اثر:
(6525)…حضرتِ سیِّدُناعلیُّ المرتضٰیکَرَّمَ اللہُ تَعَالٰی وَجْہَہُ الْکَرِیْم بیان کرتے ہیں:میں بیمار تھا،میرے پاس نبیِّ رحمت، شَفیعِ اُمت صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم تشریف لائے تو میں کہہ رہا تھا:”الٰہی! اگر میری موت آگئی ہے تو اب مجھے چین(وفات) دے، اگر ابھی دیر ہے تو مجھے صحت دےاوراگرامتحان ہےتومجھےصبردے۔“آقائے دوجہاں صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے اپنے مبارک قدم سے مجھے ٹھوکر لگائی اور فرمایا:”تم نے کیا کہا؟“میں نے دوبارہ آپ پروہی الفاظ پیش کردیئے جو کہہ رہاتھا۔ پھر آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے دعاکی:”الٰہی!اسے شفا عطا فرما۔“یا یہ دعا کی:”مولا!اسے عافیت عطا فرما۔“اس دعاکے بعد مجھے کبھی اس درد کی شکایت نہیں ہوئی۔(2)
مـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــدینـــہ
…بخاری،کتاب الزکاة،باب صلاة الامام ودعائه لصاحب الصدقة،۱/ ۵۰۴،حدیث:۱۴۹۷
2…ترمذی،کتاب الدعوات،احادیث شتی،باب فی دعاء المریض،۵/ ۳۲۹،حدیث:۳۵۷۵