فانی کو باقی پر ترجیح دو:
(6519)…حضرتِ سیِّدُناعَلا٫ بن مُسیَّب رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ بیان کرتے ہیں کہ حضرتِ سیِّدُناعَمرو بن مرّہ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہنے فرمایا:جو آخرت کا طلب گار ہوااسے دنیامیں تکلیف کاسامناکرناپڑااورجودنیا کا طلب گار بنا اسے آخرت میں نقصان ہوگا پس تم باقی کے بجائےفانی کا نقصان برداشت کرلو۔
(6520)…حضرتِ سیِّدُناابوسِنان عَلَیْہِ رَحْمَۃُ الرَّحْمٰن کابیان ہے:حضرتِ سیِّدُناعَمرو بن مرّہ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ فرماتے ہیں کہ ابلیس کہتا ہے:ابن آدم مجھ سے کیسے بچ سکتا ہے جبکہ غصہ کے وقت میں اس کی ناک کے پاس ہوتا ہوں اور عیش وسرور کے قت میں اس کے دل میں قبضہ جمائے ہوتا ہوں۔
بندے کی امیداوررحمت خداوندی:
(6521)…حضرتِ سیِّدُناابوسنان عَلَیْہِ رَحْمَۃُ الرَّحْمٰن بیان کرتے ہیں کہ حضرتِ سیِّدُناعمرو بن مرّہ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ نے فرمایا:ایک شخص کو جنت میں داخل کیاجائےگا تو وہ کہے گا:”لَاحَوۡلَ وَلَا قُوَّةَ اِلَّا بِاالله“اس کاایک درجہ بلندکردیاجائے گا۔ وہ پھر کہے گا:”لَاحَوۡلَ وَلَا قُوَّةَ اِلَّا بِاالله“پھر اس كاايک درجہ بلند کردیاجائے گا۔ فرشتہ کہےگا:”تجھے حیا نہیں آتی، اپنے رب عَزَّ وَجَلَّ سے اور کتنامانگے گا؟“وہ شخص کہے گا:”کیا میں نے اپنے رب سے کچھ مانگا ہے؟“پھر حضرتِ سیِّدُناابوسنان عَلَیْہِ رَحْمَۃُ الرَّحْمٰن نے یہ آیت مبارکہ تلاوت کی:
وَلَوْلَاۤ اِذْ دَخَلْتَ جَنَّتَکَ قُلْتَ مَا شَآءَ اللہُ ۙ لَا قُوَّۃَ اِلَّا بِاللہِ ۚ (پ۱۵،الکھف:۳۹)
ترجمۂ کنز الایمان:اور کیوں نہ ہوا کہ جب تو اپنے باغ میں گیا تو کہا ہوتا جو چاہے اللہ ہمیں کچھ زور نہیں مگر اللہ کی مدد کا۔
سیِّدُنا عَمرو بن مُرّہ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ کی مرویات
حضرتِ سیِّدُناعَمرو بن مرّہ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ نے حضرتِ سیِّدُناعبداللہ بن ابواوفیٰ،حضرتِ سیِّدُنا عبداللہ بن سَلَمہ مُرادی،حضرتِ سیِّدُناابووائل شَقیق بن سلمہ،حضرتِ سیِّدُنامرّہ ہمدانی،حضرتِ سیِّدُناخَیْثَمہ، حضرتِ سیِّدُنا عَمر و بن میمون، حضرتِ سیِّدُناعبدالرحمٰن بن ابولیلیٰ،حضرتِ سیِّدُناعبیدہ بن عبداللہ،حضرتِ سیِّدُنا سعید بن مُسیَّب اورحضرتِ سیِّدُنامُصعَب بن سعد بن ابی وقاص رِضْوَانُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِمْ اَجْمَعِیْن اور دیگر محدثین سے احادیث روایت کی ہیں۔