ہے، یہ صرف میرے لئے اس سے محبت کرتا ہو، تو ایساشخص میرے نزدیک مخلوق میں سب سے پسندیدہ ہے۔“حضرتِ سیِّدُنا موسٰی کَلِیْمُاللہ عَلَیْہِ السَّلَام نےعرض کی:”پروردگار! مخلوق کو تونے ہی پیدا کیا پھر کیوں انہیں جہنم میں داخل کرکے عذاب دے گا ؟“اللہ عَزَّ وَجَلَّ نے ان کی طرف وحی فرمائی:”سب میری ہی مخلوق ہیں۔“پھر حکم دیا:”تم کھیتی باڑی کرو۔“لہٰذا آپ عَلَیْہِ السَّلَام کھیتی باڑی کرنے لگے۔پھر حکم ہوا:”کھیتی کو پانی دو۔“آپ عَلَیْہِ السَّلَام نے اسے پانی دیا۔پھرحکم ہوا:”اس کام میں لگےرہنا۔“چنانچہ جب تک اللہ عَزَّ وَجَلَّ نے چاہا آپ عَلَیْہِ السَّلَام یہ کرتے رہے پھراس کی کٹائی کی اور کھلیان (گودام)پر لے گئے۔ پھر اللہ عَزَّ وَجَلَّ نے فرمایا:”اے موسٰی!تو نے اپنی کھیتیوں کے ساتھ کیساسلوک کیا؟“عرض کی:”میں نےکام مکمل کرلیا اور زراعت کا مال کھلیان میں ڈال دیا۔“اللہ عَزَّ وَجَلَّ نےفرمایا:”کیاتم نے کچھ مال چھوڑا؟“عرض کی:”بیکار مال چھوڑدیا۔“
٭…٭…٭…٭…٭…٭
حضرتِ سیِّدُنا عَمرو بن مُرَّہ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ
حضرتِ سیِّدُناعَمرو بن مرّہ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ تبع تابعی بزرگ ہیں۔ آپ ثقہ راوی اور مقبول بارگاہِ الٰہی ہیں۔
اندازِ دُعا:
(6511)…حضرتِ سیِّدُنا شُعبہ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ فرماتے ہیں:میں نےحضرتِ سیِّدُناعَمروبن مرّہ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ کو جب بھی دعاکرتے دیکھا تو یہی گمان کیا کہ خشوع و خضوع کےسبب آپ کی دعاختم ہونے سے پہلےہی مقبول ہوجائے گی۔
(6512)…حضرتِ سیِّدُناسفیان عَلَیْہِ رَحْمَۃُ الرَّحْمٰن بیان کرتے ہیں کہ میں نے حضرتِ سیِّدُنا مِسعَر بن کِدام رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ سے پوچھا:”آپ کے نزدیک سب سے افضل کون ہے؟“آپ نے فرمایا:میرا نہیں خیال کہ میں نے کسی شخص کوعمرو بن مرّہ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ پر فضیلت دی ہو، میں نے انہیں جب بھی دعا کرتے دیکھا یہی کہا: ان کی دعا مقبول ہو جائے گی۔
(6513)…حضرتِ سیِّدُنامِسعَر رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ بیان کرتے ہیں: ہم حضرتِ سیِّدُناعَمر و بن مرّہ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی