Brailvi Books

حِلْیَۃُ الْاَوْلِیَاء وَطَبَقَاتُ الْاَصْفِیَاء(جلد:5)ترجمہ بنام اللہ والوں کی باتیں
120 - 531
موجودات صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے ایک میت کی نمازِ جنازہ تدفین کے بعد پڑھی(1)۔(2)
نبی  عام بشر جیسے نہیں  ہوتے:
(6509)… حضرتِ سیِّدُنا عبداللہ بن عباس رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ اللہ عَزَّ  وَجَلَّ کے فرمان:
اِنِّیۡ لَاَجِدُ رِیۡحَ یُوۡسُفَ لَوْ لَا اَنۡ تُفَنِّدُوۡنِ ﴿۹۴﴾ (پ۱۳،یوسف:۹۴)
ترجمۂ کنز الایمان: بے شک میں یوسف کی خوشبو پاتا ہوں اگر مجھے یہ نہ کہو کہ سَٹھ(بہک) گیا۔
	کی تفسیر کرتے ہوئے فرتے ہیں:حضرتِ سیِّدُنا یعقوب عَلٰی نَبِیِّنَا وَعَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام نے حضرتِ سیِّدُنا یوسف عَلَیْہِ السَّلَام کی قمیص کی خوشبو80 دن کی مسافت سے پا لی تھی۔
	حضرتِ سیِّدُناشُعبہ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ فرماتے ہیں :یہ کوفہ اور بصرہ کی درمیانی مسافت جتنا فاصلہ تھا۔
بعض مخلوق جہنمی کیوں؟
(6510)…حضرتِ سیِّدُنا عبداللہ بن ابوہذیل رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ سے روایت ہےکہ حضرتِ سیِّدُنا عمار بن یاسر رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ کے رُفقا ان کے انتظار میں تھے،آپ باہرتشریف لائے تو انہوں نے پوچھا:”حضور! آنے میں اتنی دیر کیوں ہوئی؟“فرمایا:ہاں دیر ہوگئی لیکن میں تمہیں پچھلے زمانے کی ایک شخصیت یعنی حضرتِ سیِّدُنا موسٰی کَلِیْمُاللہ عَلَیْہِ السَّلَام کے بارے میں بتاتا ہوں۔ آپ عَلَیْہِ السَّلَام نے باری تعالیٰ کے حضور عرض کی:”الٰہی! مجھے اپنے سب سے پسندیدہ بندے کے بارے میں بتا؟“اللہ عَزَّ  وَجَلَّ نے فرمایا:”کیوں؟“آپ عَلَیْہِ السَّلَام نے عرض کی:”تاکہ تیری خاطر اس سےمحبت کروں۔“اللہ عَزَّ  وَجَلَّ نے ارشاد فرمایا:”ایک شخص زمین کے آخری حصے میں رہتا ہو اور دوسرا شخص اس کی آواز سنے لیکن پہچانتا نہ ہو اس کے باوجود جب اسے کوئی تکلیف پہنچے تو اِسے ایسا محسوس ہوگویا اِسےتکلیف پہنچی ہے،اگر اسےکانٹا چبھ جائےتو اسے ایسا محسوس ہو گویا اِسے کانٹا چبھا 
مـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــدینـــہ
…مفسر شہیر حکیم الامت مفتی احمد یار خان نعیمی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْقَوِی ایک حدیث کے تحت فرماتے ہیں:قبر پر نماز جائز ہے جب غالب یہ ہو کہ ابھی میت محفوظ ہوگی،گلی پھٹی نہ ہوگی۔ مزید فرماتے ہیں:اگر ولی کے علاوہ اور لوگ نماز پڑھ لیں تو ولی کو دوبارہ جنازہ پڑھنے کا حق ہے۔(مراٰۃ االمناجیح،۲/۴۷۲)
2…مصنف ابن ابی شیبة ،کتاب الجنائز،باب فی الميت يصلى عليه بعد ما دفن من فعله،۳/ ۲۳۹،حدیث:۵