Brailvi Books

حِلْیَۃُ الْاَوْلِیَاء وَطَبَقَاتُ الْاَصْفِیَاء(جلد:5)ترجمہ بنام اللہ والوں کی باتیں
12 - 531
معلوم ہوتا کہ میرے سوال کرنے سے آپ کو رَنج پہنچے گا تو میں سوال نہ کرتا۔“آپ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ نے فرمایا:”میں تمہارے سوال کی وجہ سے نہیں رویا بلکہ میں تو اس لئے رویا ہوں کہ تمہارے سوال کرنے سے پہلے ہی میں نے تمہیں کیوں نہ دے دیا؟“
دنیا کی رنگینی عارضی ہے:
(6116)…حضرتِ سیِّدُنا یعلیٰ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ بیان کرتے ہیں کہ میں نے حضرتِ سیِّدُنا محمد بن سوقہ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ کو اس حال میں دیکھا کہ آپ کے سامنے ایک طشت ہے، آپ آٹا گوند رہے ہیں، آنکھوں سے آنسو جاری ہیں اور فرما رہے ہیں:”جب میرا مال کم ہوگیا تو میرے دوست احباب مجھ سے دور ہوگئے۔“
(6117)…حضرتِ سیِّدُنا سفیان بن عُیَیْنَہ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ سے مروی ہے کہ حضرتِ سیِّدُنا محمد بن سوقہ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ نے فرمایا:ہم حضرتِ سیِّدُناعون بن عبداللہ(1) کے ساتھ کوفہ کے ایک محل میں داخل ہوئے تو میں نے عرض کی:”آپ نے ہمیں دیکھا تھا جب ہم حجاج کے دور میں اس مکان میں قید کئے گئے تھے، ہم مرعوب، خوف زدہ اور بےحد غمگين تھے۔“آپ نے فرمایا:”تم تو ایسے چل رہے ہو جیسے تکلیف پہنچے پر اللہ عَزَّ  وَجَلَّ کو یاد کیا ہی نہیں، اس مکان میں جاؤ، اللہ عَزَّ  وَجَلَّ سے دعا کرو اور اس نے جو نعمت دی ہے اس پر اس کی حمد وشکر بجالاؤ۔“
سیِّدُنا محمد بن سوقہ رَحْمَۃُ اللہِ عَلَیْہ کےدواقوال:
(6118)…حضرتِ سیِّدُنامحمدبن سُوقَہرَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہنےفرمایا:”جب تم چھینک سُنوتواللہ عَزَّ  وَجَلَّکی حمدبجالاؤ اگرچہ تمہارے اور چھینکنے والے کے درمیان سمندر کا فاصلہ ہو۔“
(6119)…حضرتِ سیِّدُنا محمدبن سوقہرَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہنے فرمایا:”جو شخص اپنے بھائی کو اللہ عَزَّ  وَجَلَّ کی رضا کے لئے فائدہ پہنچاتا ہے تو اس کی وجہ سے اللہ عَزَّ  وَجَلَّ اس کا ایک درجہ بلند فرما دیتا ہے۔“

فرمانِ مصطفٰے:اَتْبِعِ السَّیِّئَۃَ الْحَسْنَۃَ تَمْحُہَایعنی گناہ کےبعدنیکی کرلےکہ وہ اسےمٹادےگی۔
(ترمذی،کتاب البروالصلة،باب ماجاء فی معاشرةالناس،۳/ ۳۹۷،حدیث:۱۹۹۴)
مـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــدینـــہ
…متن میں اس مقام پر ”ابن عمر“مذکور ہے جبکہ دیگر کتب مثلاً تاریخ دمشق، شعب الایمان میں ”عون بن عبداللہ“ مذکور ہے اور درست بھی یہی معلوم ہوتا ہے لہٰذا یہی لکھ دیا گیا ہے۔(علمیہ)