Brailvi Books

حِلْیَۃُ الْاَوْلِیَاء وَطَبَقَاتُ الْاَصْفِیَاء(جلد:5)ترجمہ بنام اللہ والوں کی باتیں
116 - 531
 الْقَوِی کے پاس تھا، آپ نےایک درہم کی کھجوریں خریدیں، اتنے میں ایک سائل آیا اور کھجور والے سے سوال کرنے لگا۔ حضرتمُجَمِّع رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ نے کھجور والےسےفرمایا:میری آدھی کھجوریں اسے دے دو۔
موت کویادکرنے کی برکت:
(6492)…حضرتِ سیِّدُنا مُطہَّر عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْاَکۡبَر بیان کرتے ہیں کہ حضرتِ سیِّدُنامُجَمِّعتیمی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْقَوِی نے فرمایا:موت کی یاد (موت کے خوف سے)بےپروا کردیتی ہے۔
(6493)…حضرتِ سیِّدُناابوحَیّان تیمی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْقَوِی بیان کرتے ہیں کہ میں نے حضرتِ سیِّدُنامُجَمِّع رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ کو ان کے بیٹے کے جنازے میں روتا دیکھاتوپوچھا:”آپ کیوں رو رہےہیں؟“فرمایا:”مجھ میں اس کے لئے وہی جذبات ہیں  جو کسی  باپ کے اپنے بیٹےکے لئے ہوتے ہیں اور میں اس لئے رورہا ہوں کہ مجھے نہیں معلوم یہ جنت میں جائے گا یا دوزخ میں۔“
(6494)…حضرتِ سیِّدُناابوبکربن عَیّاش رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ کابیان ہےکہ کسی نےحضرتِ سیِّدُنامُجَمِّع تیمی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْقَوِی سے پوچھا:”اگر آپ کو مال ودولت مل جائے تو خوش ہوں گے؟“ فرمایا:”نہیں۔“لوگوں نے کہا: ”آپ حج کیجئے گا، غلام آزاد کیجئے گا،صدقہ وخیرات کیجئےگا۔“آپ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ نے فرمایا: ”جو چیز مجھ پر لازم نہیں اس کی امید کیوں لگاؤں۔“جب لوگوں نے آپ کے سامنے اللہ عَزَّ  وَجَلَّ کی خاطر محبت اور اسی کی خاطر نفرت رکھنے سے متعلق گفتگو کی توفرمایا:”میرے نزدیک اس کے برابر کچھ نہیں۔“
	حضرتِ سیِّدُناابوبکربن عَیّاش رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ فرماتے ہیں:میں نے28یا29سال تک ان سے حدیث سماعت کی، اتنے عرصے تک مجھےکوفہ میں ان سے زیادہ  اچھے اخلاق والا کوئی نہیں دکھا۔
مہمان نوازی کا انداز:
(6495)…حضرتِ سیِّدُناامام اَعمش رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ فرماتے ہیں:ایک مرتبہ حضرتِ سیِّدُنامُجَمِّع رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ کے ہاں ایک مہمان آیا،آپ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ نے اس سے یہ نہیں پوچھاکہ تم  کون ہو؟ کہاں سے آئےہو؟ بس مہمان نوازی کرتے رہےحتّٰی کہ وہ چلاگیا۔
٭…٭…٭…٭…٭…٭