حضرتِ سیِّدُنا مُجَمِّع بن صَمْغان تَیمی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْقَوِی
حضرتِ سیِّدُنا مُجَمِّع بن صمغان تیمی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْقَوِی تبع تابعی بزرگ ہیں، بہت متقی اور سخی ہیں۔
انوکھی تجارت:
(6488)…حضرتِ سیِّدُناابوبکربن عَیّا ش رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ فرماتے ہیں:میں نے حضرتِ سیِّدُنا مُجَمِّع تیمی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْقَوِیکو بازار میں دیکھا کہ بکری لئے کھڑے ہیں۔ لوگ جب ان سےپوچھتے:”کیسی ہے آپ کی بکری؟“تو فرماتے:”میں اس سے خوش نہیں ہوں۔“پھرحضرتِ سیِّدُناابو بکربن عَیّا شرَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ متعجب ہوکرفرمانےلگے:حضرتِ سیِّدُنا مُجَمِّع تیمی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْقَوِی سے زیادہ متقی کون ہوسکتا ہے۔
مسلمان کی خیرخواہی:
(6489)…حضرتِ سیِّدُناحَفْص بن غَیّاث رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ کا بیان ہےکہ ایک مرتبہ حضرتِ سیِّدُنا سفیان ثَوری عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْقَوِی حضرتِ سیِّدُنامُجَمِّعتیمی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْقَوِی کے پاس گئے، ان کا تہبند پھٹ چکا تھا، حضرتِ سیِّدُنامُجَمِّع تیمی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْقَوِی نے چار درہم نکالےاوراُن کی طرف بڑھاتےہوئےکہا:”ایک تہبند خرید لیجئے گا۔“حضرتِ سیِّدُنا سفیان ثَوری عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْقَوِی نے کہا:”مجھے اس کی حاجت نہیں ہے۔“آپ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ نے کہا:”سفیان! آپ سچ کہہ رہے ہیں کہ آپ کو حاجت نہیں لیکن مجھے حاجت ہے۔“پھر حضرتِ سیِّدُنا سفیان ثَوری عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْقَوِی نے وہ دراہم لے لئے اور ان سے ایک تہبند خریدلیا۔ آپ اکثر کہا کرتے تھے:”میرے بھائیمُجَمِّع نے مجھے کپڑا پہنایا، اللہ عَزَّ وَجَلَّ انہیں جزائے خیر عطا فرمائے۔“مزید فرماتے:”میرا کوئی عمل حضرتِ سیِّدُنا مُجَمِّعتیمیعَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْقَوِی کی محبت سے زیادہ خالص نہیں۔“
(6490)…حضرتِ سیِّدُناسفیان ثَوری عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْقَوِی فرماتے ہیں:حضرتِ سیِّدُناابوحَیّان تیمی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْقَوِی نے ہمارے سامنےقسم کھا کر کہا کہ ان کے دل میں حضرتمُجَمِّعتیمی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْقَوِی کی محبت سے بڑھ کر کوئی چیز نہیں۔
یہ ہیں مسلمان:
(6491)…حضرتِ سیِّدُناامام اَعمش رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ فرماتے ہیں کہ میں حضرت مُجَمِّعتیمی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ