Brailvi Books

حِلْیَۃُ الْاَوْلِیَاء وَطَبَقَاتُ الْاَصْفِیَاء(جلد:5)ترجمہ بنام اللہ والوں کی باتیں
114 - 531
اللہِ الْقَوِی نے فرمایا:  جنت اور دوزخ انسانوں کی جانب متوجہ  ہیں، جب کوئی بندہ جنت کا سوال کرتا ہے تو جنت کہتی ہے:اےاللہ عَزَّ  وَجَلَّ!اسے مجھ میں داخل فرما اور جب بندہ دوزخ سے بچنے کا سوال کرتا ہے تو وہ کہتی ہے: اے اللہ عَزَّ  وَجَلَّ!اس کو مجھ سے بچا۔
(6484)… حضرتِ سیِّدُنامِسعَر عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْاَکۡبَر بیان کرتے ہیں کہ  حضرتِ سیِّدُناعبدالاَعلیٰ تیمی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْقَوِی نے فرمایا:حضرتِ سیِّدُناملک الموت عَلَیْہِ السَّلَام ہرگھر کےافرادکوروزانہ دومرتبہ دیکھتے ہیں۔
دنیاوی لذتوں سےدوری کاباعث:
(6485)…حضرتِ سیِّدُناعبْدُالاعلیٰ تیمی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْقَوِیفرماتےہیں:دو چیزوں نے دنیاوی لذتیں مجھ سے دور کردیں(۱)…موت کی یاد اور(۲)…بارگاہِ الٰہی میں حاضری۔
زمین تسبیح سے بھردےگی:
(6486)…حضرتِ سیِّدُناعبدالاَعلیٰ تیمی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْقَوِیفرماتے ہیں کہ جب حضرتِ سیِّدُنایوسف عَلٰی نَبِیِّنَا وَعَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام اپنے بھائی سے ملے تو پوچھا:”آپ نے نکاح کرلیا؟“انہوں نے کہا:”ہاں۔“آپ نے فرمایا:”میرےغم نے آپ کو نکاح سے نہیں روکا؟“انہوں نے کہا:”والد محترم نے مجھےحکم دیاتھا کہ نکاح کرو کیونکہ اللہ عَزَّ  وَجَلَّ تم سے ایسی قوم پیدا فرمائے گا جو  آخری زمانے میں زمین کو تسبیح سے بھردے گی۔“
سورج  کا ٹھکانا:
(6487)…حضرتِ سیِّدُناابوذَرغِفاری رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ سے روایت ہےکہ سرور کائنات، شاہِ موجودات صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے یہ آیتِ مبارکہ تلاوت فرمائی:
وَ الشَّمْسُ تَجْرِیۡ لِمُسْتَقَرٍّ لَّہَا (پ۲۳،یٰسٓ:۳۸)	ترجمۂ کنز الایمان:اورسورج چلتا ہے اپنے ایک ٹھہراؤ کے لیے۔
	پھرمجھ سےفرمایا:”ابو ذر!کیا تم جانتے ہو کہ اس کاٹھکانا کہاں ہے؟“میں نے عرض کی:”اللہ اور رسول ہی خوب جانیں۔“ارشاد فرمایا:”اس کا ٹھکانا عرش کے نیچے ہے، جب یہ یہاں سے لوٹنے کی اجازت مانگتا ہے تو سجدہ کرتا ہے اور جب اس سےکہاجائےگا کہ مغرب سے طلوع ہو اس کے بعد ایمان لانا مفید نہیں ہوگا۔“