Brailvi Books

حِلْیَۃُ الْاَوْلِیَاء وَطَبَقَاتُ الْاَصْفِیَاء(جلد:5)ترجمہ بنام اللہ والوں کی باتیں
113 - 531
حضرتِ سیِّدُنا عبدُ الْاَعْلٰی تَیمی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْقَوِی
	حضرتِ سیِّدُناعبدالاَعلیٰ تیمی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْقَوِی تبع تابعی بزرگ ہیں۔ آپ خشیتِ الٰہی کے سبب آنسو بہایا کرتے تھے۔ آپ کا باطن خشیَّتِ الٰہی سے لَبْریز اور ظاہر مطیع وفرمانبردارتھا اور آنکھیں نم رہا کرتی تھیں۔
علم نافع کی پہچان:
(80-6479)…حضرتِ سیِّدُنا مِسعَر عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْاَکۡبَر  بیان کرتے ہیں کہ حضرتِ سیِّدُناعبدالاَعلیٰ تیمی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْقَوِی نے فرمایا:جسے علم دیاگیا اور وہ علم اسے(خوفِ خدا  میں)نہ رُلائے تو ضرور وہ عِلْمِ نافع سے محروم رہا کیونکہ اللہ عَزَّ  وَجَلَّ نے علما کی صفت بیان کرتے ہوئے ارشاد فرمایا ہے:
اِنَّ الَّذِیۡنَ اُوۡتُوا الْعِلْمَ مِنۡ قَبْلِہٖۤ اِذَا یُتْلٰی عَلَیۡہِمْ یَخِرُّوۡنَ لِلۡاَذْقَانِ سُجَّدًا ﴿۱۰۷﴾ۙ (پ۱۵،بنی اسرائیل:۱۰۷)	
ترجمۂ کنز الایمان: بیشک وہ جنہیں اس کے اترنے سے پہلے علم ملا جب ان پر پڑھا جاتا ہے ٹھوڑی کے بل سجدہ میں گر پڑتے ہیں۔(1)
(6481)…حضرتِ سیِّدُناابواسامہرَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ اور حضرتِ سیِّدُنا مِسعَر عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْاَکۡبَر بیان کرتے ہیں کہ حضرتِ سیِّدُناعبدالاَعلیٰ تیمی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْقَوِی اپنے سجدوں میں یوں دعا کرتے:اے پروردگار! ہمارے خشوع وخضوع کواتنا بڑھا دے جتنا تیرے دشمن تیری بارگاہ سے بھاگتے ہیں، ہمیں اپنی  بارگاہ میں سربسجود ہونے کے بعد اوندھے منہ جہنم میں نہ ڈالنا۔
(6482)…حضرتِ سیِّدُناعبْدُالاَعلیٰ تیمیعَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْقَوِینےفرمایا:لوگ کہیں جمع ہوں اور جنت ودوزخ کا ذکر نہ کریں تو فرشتے کہتے ہیں:یہ لوگ دو عظیم معاملوں سے غافل ہیں۔
جنت ودوزخ کی فریاد:
(6483)…حضرتِ سیِّدُنامِسعَر عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْاَکۡبَر  بیان کرتے ہیں کہ  حضرتِ سیِّدُناعَبدُالاعلیٰ تیمی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ 
مـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــدینـــہ
…یہ آیت سجدہ ہے اور ”آیت سجدہ (یا اس کا ترجمہ) پڑھنے یا سننے سے سجدہ واجب ہوجاتا ہے۔ پڑھنے میں یہ شرط ہے کہ اتنی آواز سے ہو کہ اگر کوئی عذر نہ ہو تو خود سُن سکے۔ سننے والے کے ليے یہ ضرور نہیں کہ بالقصد سنی ہو بلاقصد سُننے سے بھی سجدہ واجب ہوجاتا ہے۔“(بہارشریعت، حصہ۴، ۱/ ۷۲۸)