ادنیٰ درجےوالاجنتی:
(6474)…حضرتِ سیِّدُنامُغِیرہ بن شُعْبہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ سے مرفوعاً روایت ہےکہ رسولُ اللہ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے ارشاد فرمایا:حضرت موسٰیعَلَیْہِ السَّلَام نے بارگاہِ خداوندی میں عرض کی:”جنتیوں میں ادنیٰ درجے والا کون ہوگا؟“اللہ عَزَّ وَجَلَّ نے فرمایا:”وہ شخص جو جنتیوں کے جنت میں داخل ہونے کے بعد آئے گا۔“ کہا جائے گا:جنت میں داخل ہوجا۔وہ عرض کرےگا:کیسے داخل ہوجاؤں؟ جنتیوں نے تو اپنے اپنے درجوں میں جاکر اپنے حصے پالئے۔ کہا جائےگا:” کیا تو اس پر راضی ہے کہ تیرا حصہ دنیاوی بادشاہوں کی سلطنت کی مثل ہو؟“عرض کرے گا:”اےمولا عَزَّ وَجَلَّ! میں راضی ہوں۔“پھر اس سے کہا جائے گا:”تیرے لئے اس کی مثل ہے اور اس کی مثل اور اس کی مثل۔“وہ کہے گا:”اے پروردگار! میں راضی ہوں۔“پھر کہا جائےگا:”تیرے لئے یہ بھی ہے اس کی مثل دس گنا اور بھی۔“کہے گا:”اے اللہ عَزَّ وَجَلَّ!میں راضی ہوں۔“پھر کہا جائے گا:”ان کے علاوہ تیرے لئے وہ بھی ہے جو تیرے نفس کی خواہش ہے اور جس سے تیری آنکھیں لذت پائیں۔“حضرت موسٰیعَلَیْہِ السَّلَام نے عرض کی:”اے اللہ عَزَّ وَجَلَّ! سب سے بلند درجے والا جتنی کون ہوگا؟“ارشاد فرمایا:”تمہاری یہی خواہش ہے تو اب میں تمہیں ان کے بارے میں بتاتا ہوں، بےشک میں نے اپنے دست قدرت سے ان کی شان بڑھا کر اس پر مہر ثبت فرمائی ہے، اسے کسی آنکھ نے دیکھا نہ کسی کان نے سنا نہ کسی انسان کے دل پر اس کا خیال گزرا۔“
راوی فرماتے ہیں:یہی بات قرانِ مجید کی اس آیت سے بھی معلوم ہوتی ہے:
فَلَا تَعْلَمُ نَفْسٌ مَّاۤ اُخْفِیَ لَہُمۡ مِّنۡ قُرَّۃِ اَعْیُنٍ ۚ (پ۲۱،السجدة:۱۷)
ترجمۂ کنز الایمان: تو کسی جی کو نہیں معلوم جو آنکھ کی ٹھنڈک ان کے لیے چُھپا رکھی ہے۔(1)
جنتیوں کی شان:
(6475)…حضرتِ سیِّدُنا عبداللہ بن عمر رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ سے روایت ہےکہ حضورِ اَنور،شافِعِ محشر صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے ارشاد فرمایا:جنتیوں میں ادنیٰ درجے والا وہ ہوگا جو دوہزار سال کی مسافت تک پھیلی ہوئی اپنی ملکیت میں اپنے تخت، اپنی بیویوں اور اپنے خدام کو دور سے بھی اس طرح دیکھے گا جیسے اپنے قریب
مـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــدینـــہ
…مسلم،کتاب الایمان،باب ادنی اھل الجنة منزلة،ص۱۱۸،حدیث:۱۸۹