وَ جَآءَتْ کُلُّ نَفْسٍ مَّعَہَا سَآئِقٌ وَّ شَہِیۡدٌ ﴿۲۱﴾ (پ۲۶،قٓ:۲۱) ترجمۂ کنز الایمان:اور ہر جان یوں حاضر ہوئی کہ اس کے ساتھ ایک ہانکنے والا اور ایک گواہ۔
آپ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ نے فرمایا:ہانکنے والاہر شخص کو وَہیں ہانکےگا جہاں اللہ عَزَّ وَجَلَّ کاحکم ہوگا (یعنی جنت یا جہنم میں) اور اس کے بُرے اعمال اس کے خلاف گواہی دیں گے۔
سیِّدُنا عبدُ الملک بن اَبْجَر رَحْمَۃُ اللہِ عَلَیْہ سے مروی احادیث
حضرتِ سیِّدُنا عبدالملک بن اَبجر عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْاَکۡبَر نے صحابی رسول حضرتِ سیِّدُناابوطُفیل عامر بن وَاثلہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ کی صحبت اختیار کی ہے اور ان سے احادیث بھی روایت کی ہیں، ان کے علاوہ حضرتِ سیِّدُنا زَر بن حُبَیش، حضرتِ سیِّدُنا عامرشُعبی، حضرتِ سیِّدُناعبدالملک بن عمیر، حضرتِ سیِّدُنا واصِل بن حَیّان، حضرتِ سیِّدُنا اِیاد بن لَقِیط، حضرتِ سیِّدُنا طلحہ بن مُصرِّف، حضرتِ سیِّدُناسَلَمہ بن کُہیل، حضرتِ سیِّدُنا ثُوَیر بن ابوفاخِتہ، حضرتِ سیِّدُنا مجاہد، حضرتِ سیِّدُنا ابوسفیان اور حضرتِ سیِّدُنا طلحہ بن نافع رَحِمَہُمُ اللہُ تَعَالٰیسے بھی احادیث روایت کی ہیں۔
صحابہ کی حضور صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّم سے محبت:
(6472)…حضرتِ سیِّدُناابوطفیل رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ بیان کرتے ہیں کہ ایک بار میں نے حضرتِ سیِّدُنا عبداللہ بن عباس رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ سے کہا:”غالباً میں نے رسولُاللہ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کی زیارت کی ہے۔“انہوں نے فرمایا:”مجھے کیفیت بتاؤ؟“میں نے کہا:حضورِ اکرم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم مَروہ پہاڑ کے قریب اونٹ پر تشریف فرما تھے، آپ کے گرد لوگ جمع تھے وہ پکار رہے تھے:”یہ اللہ عَزَّ وَجَلَّ کے رسول ہیں۔“حضرتِ سیِّدُنا ابن عباسرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ نے فرمایا:”لوگوں کوآپصَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّم سےنہ توہٹایاجاتاتھانہ دورکیاجاتاتھا۔“
لیلۃ القدر اور 27ویں شب:
(6473)…حضرتِ سیِّدُنا زَر بن حُبیش رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ بیان کرتے ہیں کہ حضرتِ سیِّدُنا اُبی بن کَعب رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ بغیر اِنْ شَآءَ اللہ کہے اللہ عَزَّ وَجَلَّ کی قسم کھاکر کہتے تھے:”لیلۃ القدر ستائیسویں شب ہے اس کے علاوہ نہیں ہوتی۔“جب ہم نے ان سے پوچھا کہ آپ نے یہ کیسےجانا؟ تو فرمایا:”ہمیں رسولُ اللہ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے ایک نشانی عطا کی تھی جو ہمارے لئے کافی ہے اور ہمیں یاد ہے کہ وہ27ویں شب ہے۔