جاتے ہیں۔ پھرآپ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ نے حضرتِ سیِّدُنا عبد الملک بن اَبجر،حضرتِ سیِّدُنا ابوحیان تیمی، حضرتِ سیِّدُنامحمد بن سُوقہ، حضرتِ سیِّدُنا عمر بن قیس اور حضرتِ سیِّدُنا ابوسِنان رَحِمَہُمُ اللہُ تَعَالٰی کا ذکر کیا۔
بھاگے ہوئے غلام پر شفقت:
(6468)…حضرتِ سیِّدُناحسین جُعفی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْقَوِی کا بیان ہے کہ ایک دن میں حضرتِ سیِّدُنا عبدالملک بن ابجر عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْاَکْبَر کے پاس حاضر تھا۔ ان کا غلام بھاگا ہوا تھا۔ ان کے گھرکے دو دروازے تھے اس لئے غلام کے لوٹ آنے کا انہیں علم نہیں ہوا۔ جب سامنے آیا تو آپ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ نے اس سے فرمایا:”افسوس ہے تمہارے بھاگنے پر!تمہاری نماز قبول نہیں ہوگی!کس دروازے سے بھاگے تھے، کیا ہم سے زیادہ تمہارا کوئی خیر خواہ ہے؟ میرا نہیں خیال کہ تم نے ہم سے زیادہ کوئی اپنا خیرخواہ پایاہو۔ تم گئے کس دروازے سے تھے؟“غلام نے کہا:”فلاں دروازے سے۔“آپ نے فرمایا:”اب اسی سے داخل ہو اور بارگاہِ خداوندی میں اپنے گناہ سے توبہ کرو۔“پھر اپنی لونڈی سے فرمایا:”اسے کھانا کھلاؤ کیونکہ مجھے لگتاہے یہ بھوکا ہے۔“
بیٹے کو نصیحت:
(6469)…حضرتِ سیِّدُناسفیان بن عُیَیْنَہ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ بیان کرتے ہیں:حضرتِ سیِّدُنا عبدالملک بن اَبجر عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْاَکْبَر کے بیٹے نے ان کے غلام کو جولاہا(یعنی کپڑا بننے والا) کہا تو آپ نے بیٹے سے فرمایا:”تم اسے اس چیز سے عار دلا رہے ہو جس میں اسے ہم ہی نے مبتلا کیا ہے۔“
راوی کہتے ہیں کہ شاید انہوں نے یہ فرمایا:اگر یہ عیب ہے تو ہم نے ہی اسے یہ عیب لگایا ہے۔
خوشحالی اور مصیبت بھی ایک امتحان:
(6470)…حضرتِ سیِّدُنا حسین جُعفی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْقَوِی بیان کرتے ہیں کہ حضرتِ سیِّدُناعبدالملک بن اَبجر عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْاَکْبَر نے فرمایا:لوگوں کو خوشحالی عطاکی جاتی ہے تاکہ دیکھا جائے کہ شکر کیسے ادا کرتا ہے یا مصیبت میں گرفتار کیا جاتا ہے تاکہ دیکھا جائے کہ کیسے اس پر صبر کرتا ہے۔
(6471)…حضرتِ سیِّدُنا حسین بن علی جُعفی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْقَوِی فرماتے ہیں کہ ایک شخص نے حضرتِ سیِّدُنا عبدُالملک بن ابجر عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْاَکْبَر سے اس آیت کی تفسیر پوچھی: