حضرتِ سیِّدُنا عبدُ الملک بن ابجر عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْاَکْبَر
حضرتِ سیِّدُناعبدالملک بن سعید بن ابجر عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْاَکْبَر تبع تابعین میں سے ہیں۔ آپ کا باطن تقوٰی اور پرہیزگاری سے منوَّرتھا اور آپ کثرت سے گریہ وزاری کرتے تھے۔
(6463)…حضرتِ سیِّدُناولید بن شُجاع رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ کے والد کابیان ہےکہ حضرتِ سیِّدُناعبدالملک بن ابجرعَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْاَکْبَر شدید خوفِ خدا کی وجہ سے توریہ والے انداز سے گفتگو کرتے اور جب کسی ناپسندیدہ چیز کو دیکھ لیتے تو مسلسل یہ دعا پڑھتے:”اَعُوْذُ بِاللهِ السَّمِيْعِ الْعَلِيْمِ مِنَ الشَّيْطَانِ الرَّجِيْم یعنی میں شیطان مردود سے اللہ کی پناہ مانگتاہوں جو سننے جاننے والا ہے۔“حتّٰی کہ یہ جان لیا جاتا کہ کوئی چیز آپ کو بری لگی ہے۔ آپ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ اس قدرخوفِ خدا والے تھےکہ جو لوگ آپ سے ناواقف ہوتے وہ آپ کوبے وقوف کہہ دیا کرتے۔ آپ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ نفس کا محاسبہ سختی سےکرتے مگر کسی سے اس کے متعلق کچھ نہ کہتے۔
بکثرت آنسو بہانے والے:
(6464)…جعفراَحمرکابیان ہے:ہمارےچاراصحاب حضرت سیِّدُناعبْدُالملِک بن اَبجر،حضرت سیِّدُنامحمدبن سُوقہ،حضرت سیِّدُنامُطَرِّف بن طَریف اورحضرت سیِّدُناابوسِنان ضِراربن مُرَّہرَحِمَہُمُ اللہُ تَعَالٰیخوفِ خدامیں کثرت سے آنسو بہایا کرتے تھے ۔
(6465)…حضرتِ سیِّدُنا شُجاع رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ بیان کرتے ہیں کہ میں جب بھی حضرتِ سیِّدُنا عبدالملک بن ابجر عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْاَکْبَر سے ملتا وہ یہی کہتے:” تمہارے بعدوالوں کی عمریں کم ہوں گی، موت نزدیک ہوتی جارہی ہے، تمہارے پڑوسیوں یعنی قبروالوں کے ساتھ کیا ہوا؟“پھر خود ہی فرماتے:”جس معاملے کو اللہ عَزَّ وَجَلَّ نے مؤخر کردیا اسے کیسے جانا جاسکتا ہے!“
(6466)…حضرتِ سیِّدُناسلمہ بن کُہیل رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ فرماتے ہیں:کوفہ میں ایسا کوئی نہیں جس کی سیرت اپنانا مجھے حضرتِ سیِّدُنا عبد الملک بن اَبجر عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْاَکْبَر کی سیرت اپنانےسےزیادہ محبوب ہو۔
روز نیکیوں میں بڑھنے والے:
(6467)…حضرتِ سیِّدُنا سفیان ثَوری عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْقَوِی فرماتے ہیں:کوفہ کے پانچ افراد روز ہی نیکیوں میں بڑھ