دورانِ طواف10فرسخ کی مسافت:
(6456)…محمدبن فُضیل کابیان ہے:میں نے دیکھاکہ لوگوں نے طواف کے دوران حضرتِ سیِّدُنا ابن طارق رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ کےلئے جگہ کشادہ کی ہوئی تھی۔ آپ نےچپلیں پہنی ہوئی تھیں جو کثرتِ طواف کے باعث گھس چکی تھیں۔ لوگوں نےاس وقت ان کے طواف کو شمار کیا تو معلوم ہوا کہ اس دن اور رات میں وہ دورانِ طواف دس فرسخ مسافت کی مقدار چلے تھے۔
سیِّدُنا کُر ز بن وَبَره حارثی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْوَلِی کی مرویات
حضرتِ سیِّدُناکرز رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ نے حضرتِ سیِّدُنا طاؤس، حضرتِ سیِّدُناعطا٫، حضرتِ سیِّدُنا ربیع بن خیثم اور حضرتِ سیِّدُنامحمد بن کعب قُرظِی رَحِمَہُمُ اللہُ تَعَالٰی اور دیگر سے احادیث روایت کی ہیں۔
رکنِ یمانی کے قریب یہ دعا کیجئے:
(6457)…حضرتِ سیِّدُنا عبداللہ بن عباس رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ سے روایت ہےکہ تاجدارِ رسالت، شہنشاہِ نبوت صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے ارشاد فرمایا:اللہ عَزَّ وَجَلَّ نے زمین وآسمان کی پیدائش کے وقت سے رکْنِ یمانی پر ایک فرشتہ مقرر کر رکھا ہے۔ جب تم وہاں سے گزرو تو یہ دعاکیاکرو کیونکہ وہ فرشتہ اٰمین کہتا ہے:”رَبَّنَا اٰتِنَا فِی الدُّنْيَا حَسَنَةً وَّفِی الْاٰخِرَةِ حَسَنَةً وَّقِنَا عَذَابَ النَّار یعنی اے ہمارے رب عَزَّ وَجَلَّ! ہمیں دنیا میں بھی بھلائی عطافرمااورآخرت میں بھی بھلائی عطا فرمااور ہمیں آگ کے عذاب سے بچا۔“
حضرتِ سیِّدُنا کرزرَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ نے فرمایا: جب تم حجر ِاسود کے پاس سے گزرو تو تکبیر کہو اور سرورِ کائنات صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم پر درود ِ پاک پڑھو پھر کہو: اے اللہ عَزَّ وَجَلَّ! ہم نے تیری کتاب کی تصدیق کی اور تیرے نبی کی سنت کو اپنالیا۔
حاجیوں کے لئے خوشخبری:
(6458)…حضرتِ سیِّدُناعبداللہ بن عباس رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ فرماتے ہیں کہ یوم ِعرفہ کی صبح جب منٰی والے اپنے خیمے اٹھا کر میدانِ عرفات کی طرف کوچ کرتے ہیں تو حضرت سیِّدُنا جبرئیل عَلَیْہِ السَّلَام ندا دیتے ہیں:”سنو!