Brailvi Books

حِلْیَۃُ الْاَوْلِیَاء وَطَبَقَاتُ الْاَصْفِیَاء(جلد:5)ترجمہ بنام اللہ والوں کی باتیں
104 - 531
 پر پڑاؤ ڈالتا تو اپنے اضافی کپڑے اُتار کر کجاوے میں ڈال دیتے اور نماز کے لئے علیحدہ جگہ پر تشریف لےجاتے۔ جب اونٹوں کا شور سنتے تو واپس آجاتے۔ ایک دن آپ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ کو آنے میں تاخیر ہوگئی۔ شرکائے قافلہ آپ کی تلاش میں نکل پڑے۔ میں بھی ان میں شامل تھا۔ میں نے دیکھا کہ آپ سخت دھوپ میں وادیوں کے بیچ ایک کھلے میدان میں نماز پڑھ رہے تھے اور بادل آپ پر سایہ کئے ہوئے تھا۔ نماز سے فارغ ہوکر جب آپ نے مجھے دیکھا تو قریب آکر کہنے لگے:”ابوسُلیمان!تم سے ایک کام ہے۔“میں نے پوچھا:”ابوعبداللہ!کیا  کام ہے؟“فرمایا:”میں چاہتا ہوں کہ تم نے یہاں جو کچھ دیکھا اسے پوشیدہ رکھو۔“میں نے کہا:”آپ کی یہ بات پوشیدہ رہے گی۔“آپ نے کہا:”وعدہ کرو۔“میں نے قسم کھاکر کہا:”آپ کی زندگی میں یہ بات کسی کو نہیں بتاؤں گا۔“
(6451)…حضرتِ سیِّدُنااحمدبن کثیر رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ نے حضرتِ سیِّدُنا کرز رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ کی باندی سے پوچھا:”ان کا گزارا کہاں سے ہوتا تھا؟“اس نے جواب دیا کہ انہوں نے مجھ سے کہاتھا”اے روضہ!تمہیں جب بھی کچھ چاہئے ہوتو اس طاق سے لےلیاکرو۔“لہٰذا جب مجھے کچھ چاہئے ہوتا وہاں سےلے لیتی تھی۔
40 سال آسمان کی طرف نہ دیکھا:
(6452)…حضرتِ سیِّدُنافُضیل رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ بیان کرتےہیں: حضرتِ سیِّدُناکرز رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ نے 40سال اپنا سر آسمان کی طرف نہیں اٹھایا۔
قبرستان والے آمد کے منتظر:
(6453)…حضرتِ سیِّدُنا عَمرو بن حُمید ابوسعید عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْمَجِیْد بیان کرتے ہیں:جُرجان کے رہنے والے ایک شخص نے بتایا کہ جب حضرتِ سیِّدُناکُرز رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ کا وصال ہوا تو کسی نے خواب دیکھا:مردے نئے کپڑے پہن کر اپنی قبروں کے پاس بیٹھےہیں۔کسی نےان سےپوچھا:”یہ کیاماجراہے؟“تو وہ کہنے لگے:”قبروالوں کو نئے کپڑے اس لئے پہنائے گئےہیں کہ ان میں حضرتِ سیِّدُنا  کرز رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ تشریف لانے والے ہیں۔“
روزانہ70 مرتبہ طواف:
(6454)…حضرتِ سیِّدُناابن شُبرُمہ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ فرماتےہیں:
لَوْ شِئْتُ كُنْتُ كَكُرْزٍ فِی تَعَبُّدِهٖ		اَوْ كَاِبْنِ طَارِقٍ حَوْلَ الْبَـيْتِ فِی الْحَرَمِ