Brailvi Books

حِلْیَۃُ الْاَوْلِیَاء وَطَبَقَاتُ الْاَصْفِیَاء(جلد:5)ترجمہ بنام اللہ والوں کی باتیں
103 - 531
لُعاب میں شفا:
(6446)…حضرتِ سیِّدُنافُضیل بن غَزوَان عَلَیْہِ رَحْمَۃُ  الرَّحْمٰن بیان کرتے ہیں:حضرتِ سیِّدُناابن شُبرُمہ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ بِرسام(پھیپھڑے کی سوزش)میں مبتلا تھے،حضرتِ سیِّدُناکرزبن وبرہ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ ان کی عیادت کرنے آئے۔ آپ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ نےان کےکان میں اپنالعاب ڈال دیا (اس کی برکت سے) وہ شفایاب ہوگئے۔
نیکی کی دعوت کاجذبہ:
(6447)…مروی ہےکہ حضرتِ سیِّدُنا کُرز بن وَبَرہ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ لوگوں کو نیکی کی دعوت دینے جاتے تھے تو وہ آپ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ کو اس قدر مارتے کہ آپ بےہوش ہوجاتے۔
(6448)…حضرتِ سیِّدُناابوطیبہ جُرجانی قُدِّسَ سِرُّہُ النُّوْرَانِی سے روایت ہے کہ ہم نے حضرتِ سیِّدُناکرز بن وبرہ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ سے پوچھا:”ایساکون ہےجسےنیکوکاربھی ناپسندکرتےہیں اور بدکار بھی؟“فرمایا:”وہ بندہ جو آخرت کا طالب ہوتا ہے پھر دنیا کا طالب بن جاتا ہے۔“
نماز کا شوق:
(6449)…حضرتِ سیِّدُنا خَلَف بن تَمیمرَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ کے والد صاحب کا بیان ہےکہ حضرتِ سیِّدُنا کرز بن وبرہ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ ہمارے پاس جرجان سے آئے تو کوفہ کےعلما جمع ہوگئے، میں بھی ان میں شامل تھا لیکن میں ان کی صرف دوہی باتیں سن سکا۔ ایک یہ کہ حضور نبیِّ کریم، رَءُوْفٌ رَّحیم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم  پر درود بھیجو کیونکہ تمہارا درود اُن پر پیش کیا جاتا ہے اور دوسری بات یہ کہ اے اللہ عَزَّ  وَجَلَّ!ہمارا خاتمہ اچھا فرما۔
	راوی کا بیان ہے:میں نے اس امت میں ان سےبڑا عابد نہیں دیکھا،آپ کجاوے میں بھی نماز پڑھتے رہتے تھے اور اس سے اُترتے تو پھر نماز شروع کردیتے۔
تپتی دھوپ میں سر پر بادل:
(6450)…حضرتِ سیِّدُنا ابوسُلیمان مکتب رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ بیان کرتے ہیں کہ ایک مرتبہ مکَّۂ مکرَّمہ کی طرف جاتے ہوئے میں حضرتِ سیِّدُنا کُرز رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ کا شریک سفر تھا۔ آپ کا معمول تھاکہ قافلہ جب بھی کسی مقام