Brailvi Books

حِلْیَۃُ الْاَوْلِیَاء وَطَبَقَاتُ الْاَصْفِیَاء(جلد:5)ترجمہ بنام اللہ والوں کی باتیں
102 - 531
عَلَیْہ نے اللہ عَزَّ  وَجَلَّ سےا سم اعظم(1) کا سوال اس شرط کے ساتھ کیا کہ وہ اس سے کوئی بھی دنیاوی چیز نہ مانگیں گے۔ اللہ عَزَّ  وَجَلَّ نے انہیں اسم اعظم عطا کردیا تو انہوں نے روزانہ تین مرتبہ ختم قران کرنے پر قدرت حاصل ہونے کا سوال کیا۔
(6442)…حضرتِ سیِّدُناابوشبرمہ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ بیان کرتے ہیں کہ میں حضرتِ سیِّدُنا کرز بن وبرہ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ کے ساتھ شریک سفر تھا۔ آپ جب بھی کسی پاک جگہ سے گزرتے تو سواری سے اُتر کر نماز ادا کرتے۔
نیکی چھوٹ جانے پر ملامت:
(6443)…حضرتِ سیِّدُناابوداؤد حَفَری عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْقَوِی بیان کرتے ہیں: میں حضرتِ سیِّدُنا  کرز بن وبرہ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ کے پاس آیا۔ انہیں روتا ہوا پایا تو پوچھا:”آپ کیوں رو رہے ہیں؟“فرمایا:”میرا دروازہ بند تھا، پردہ لٹکا ہوا تھا، میں گزشتہ رات تلاوتِ قرآن کا ہدف پورا کرنے سے رہ گیا اور یہ میرے گناہوں  کی وجہ سے ہوا ہے۔“
(6444)…حضرتِ سیِّدُنا عبداللہبن مبارک رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ نے ایک مرتبہ حضرت کرز بن وبرہ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ کو یہ کہتے سنا:میں گزشتہ رات مطلوبہ مقدار میں تلاوتِ قرآن نہ کرسکا۔شاید!یہ میرے کسی گناہ کے سبب ہوا ہے مگر مجھے اس  گناہ کا علم نہیں ۔
(6445)…حضرتِ سیِّدُنافضیل بن غزوانعَلَیْہِ رَحْمَۃُ  الرَّحْمٰن بیان کرتے ہیں:حضرتِ سیِّدُناکرز بن وبرہ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ کے لئے محراب میں ایک لکڑی اس لئے رکھی رہتی تھی کہ جب آپ کو (دورانِ نماز)ا ونگھ آئے تو اس سے سہارا لے سکیں۔
مـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــدینـــہ
…اسم اعظم کے متعلق مختلف روایات ہیں۔ دعوتِ اسلامی کے اشاعتی ادارے مکتبۃ المدینہ کی مطبوعہ 318صفحات پر مشتمل کتاب ”فضائِلِ دُعا“میں اسم اعظم کے متعلق بیس بشارتیں منقول ہیں۔ اسی میں صفحہ149 پر ہے:جمہور علماءفرماتے ہیں کہ ”اللہ“اسمِ اعظم ہے۔ اگلے صفحے پر ہے:بعض علماء نے ”بسم اللہ“ شریف کو اسم اعظم کہا۔
	اسم اعظم کے متعلق تفصیلی معلومات حاصل کرنے کے لئے اسی کتاب کے صفحہ143تا152 کا مطالعہ کیجئے۔
	مفسر شہیر حکیمُ الاُمت مفتی احمد یار خان نعیمی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْقَوِی مراٰۃ المناجیح،جلد3، صفحہ334 پر فرماتے ہیں:خیال رہے کہ اللہ تعالیٰ کے سارے ہی نام عظیم ہیں کوئی ناقص نہیں مگر بعض نام اعظم یعنی بہت بڑے ثواب وتاثیروالے ہیں۔ بعض صوفیاء نے فرمایا کہ جو نام خلوص دل اور عشق ومحبت سے لیا جائے وہی اسمِ اعظم ہے۔ یہ ہی امام جعفر صادق کا قول ہے۔