ان سے تیسرے شخص کے بارے میں سوال کرنا مناسب نہ سمجھا۔
(اگلی روایت میں آخری الفاظ یہ ہیں)پھر پوچھا:”ان کے بعدآپ ہیں؟“آپ نے (عاجزی کرتے ہوئے) فرمایا:”میں تو بس ایک مسلمان ہوں۔“
٭…٭…٭…٭…٭…٭
کوفہ کے تبع تابعین رَحِمَہُمُ اللہُ الْمُبِیْن کا تذکرہ
حضرتِ سیِّدُنا كُرْز بن وَبَره حارثی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْوَلِی
حضرتِ سیِّدُنا کُرز بن وَبَرہ حارِثی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْوَ لِیتبع تابعی بزرگ ہیں۔ وطن اصلی کوفہ تھا مگر رہائش پذیر جرجان میں تھے، بہت شہرت یافتہ تھے، عبادت وریاضت میں آپ کا مقام بہت بلند تھا، جب آپ پر محبتِ الٰہی اور کشف کی کیفیت غالب آتی تو بہت سی لطیف باتوں کا مشاہدہ کرتے اور پوشیدہ راز آپ پر ظاہر ہوجاتے۔
عُلَمائےتصوف فرماتےہیں:دنیا سے کنارہ کش ہونا اور تنہائی اختیار کرناتَصَوُّف ہے۔
کثرتِ عبادت اور تلاوتِ قرآن کاذوق:
(6439)…حضرتِ سیِّدُنافُضیل بن غَزوَان عَلَیْہِ رَحْمَۃُ الرَّحْمٰن بیان کرتے ہیں: میں حضرتِ سیِّدُنا کُرز بن وَبَرہ حارثی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْوَ لِی کے گھر آیا تو میں نے دیکھا کہ طویل قیام کی وجہ سے نماز پڑھنے کی جگہ پر گڑھا بن گیا ہے جسے آپرَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ نے بھو سا بھر کے چادر سے چھپایا ہوا تھا۔ آپ دن اور رات میں تین مرتبہ قران پاک ختم کیا کرتے تھے۔
(6440)…مروی ہےکہ حضرتِ سیِّدُنا کرز بن وبرہ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ روزانہ تین مرتبہ قران پاک ختم کیا کرتے تھے۔
اسم اعظم کا سوال:
(6441)…حضرتِ سیِّدُناابن شُبرُمہ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ بیان کرتے ہیں:حضرتِ سیِّدُنا کرز بن وبرہ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی