Brailvi Books

حِلْیَۃُ الْاَوْلِیَاء وَطَبَقَاتُ الْاَصْفِیَاء(جلد:5)ترجمہ بنام اللہ والوں کی باتیں
100 - 531
شخص نے وہاں آکر دنیاوی گفتگو شروع کردی۔ آپ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ نے اِحْتِباء کی چادر کھولی، چپل پہنی اور وہاں سے اٹھ کر چلے گئے۔ حضرتِ سیِّدُناحبیب رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ نے اس شخص سے فرمایا: تم نےیہ کیا کیا؟ تم نے ہماری مجلس خراب کر دی۔
(6435)…(الف)حضرتِ سیِّدُنا سفیان عَلَیْہِ رَحْمَۃُ  الرَّحْمٰن فرماتے ہیں:”کوفہ میں حضرتِ سیِّدُناربیع بن ابوراشد عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْوَاحِدسےزیادہ موت کویادکرنےوالاکوئی نہیں۔“مزیدفرماتےہیں:”حضرتِ سیِّدُناربیع بن ابوراشد عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْوَاحِد موت کے بارے میں فکرمند رہتے تھے۔“
(6435)…(ب)حضرتِ سیِّدُنا سفیان بن عُيَيْنَہ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ کا بیان ہےکہ حضرتِ سیِّدُناربیع بن ابوراشد عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْوَاحِد نے فرمایا:موت کی یاد میرے اور بہت سی تجارت کے درمیان آڑ بن گئی ہے۔
(6436)…حضرتِ سیِّدُنانَضْر بن اسماعیلرَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ فرماتے  ہیں کہ حضرتِ سیِّدُناربیع بن ابوراشد عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْوَاحِد کسی اپاہج شخص کے پاس سے گزرے تو اس کے پاس بیٹھ گئے، اللہ عَزَّ  وَجَلَّ کی حمد کی اور رونے لگے۔ آپ کے پاس سے گزرنے والے ایک شخص نے پوچھا:”اللہ عَزَّ  وَجَلَّ آپ پر رحم فرمائے، کس چیز نے آپ کو رُلایا؟“ فرمایا:”مجھے جنتی اور دوزخی یاد آ گئے،میں نے جنتیوں کو نجات والوں اور  دوزخیوں کو مصائب میں گرفتار لوگوں سے تشبیہ دی، بس اسی بات نے مجھے رُلادیا۔“
سیِّدُنارَبیع بن ابوراشدعَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْوَاحِد کی مرویات
	آپ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہحضرتِ سیِّدُنامُنْذِرثَوریعَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْقَوِیسےروایت کرتےہیں اورآپ سےمروی احادیث  کم ملتی ہیں۔
اَفْضَلُ الْبَشَربَعْدَالْاَنْبِیَاء:
(38-6437)…حضرتِ سیِّدُنامحمدبن حَنَفِیہ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ کا بیان ہےکہ میں نے اپنے والد ماجد حضرتِ سیِّدُنا علیُّ المرتضٰی کَرَّمَ اللہُ تَعَالٰی وَجْہَہُ الْکَرِیْم سے پوچھا:”ابا جان!رسولُاللہ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کے بعد لوگوں میں سب سے افضل کون ہے؟“ارشادفرمایا:”امیرالمؤمنین حضرتِ سیِّدُناابوبکرصدیق رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ۔“میں نے پوچھا:”ان کے بعد کون ہے؟“ارشاد فرمایا:”حضرتِ سیِّدُنا عمرفاروقِ اعظمرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ۔“پھر میں نے