سُوقہ
رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ نے اپنے پاس جمع شدہ مال کو شمار کیا تو وہ ایک لاکھ درہم تھے، پھر فرمانے لگے:میں نے ایسی کوئی بھلائی جمع نہیں کی جسے میں باقی رکھوں تو وہ بڑھتی رہے اور میں اس کے لئے بڑھتا رہوں۔
راوی کہتے ہیں:ابھی ہفتہ بھی نہ گزرا تھا کہ آپ کے پاس اس میں سے صرف سو درہم باقی رہ گئے۔
راوی مزید بیان کرتے ہیں کہ حضرتِ سیِّدُنا محمد بن سوقہ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ نے حضرتِ سیِّدُنا غزوان عَلَیْہِ رَحْمَۃُ الرَّحْمٰن سے تول کے حساب سے ریشمی کپڑا خریدا۔ انہوں نے آپ کو مطلوبہ مقدار میں کپڑا تو ل کر دے دیا۔ جب آپ نے کپڑا دوبارہ تولا تووہ تین سو دینار کی مالیت زائد تھا۔ چنانچہ آپ نے حضرتِ سیِّدُنا غزوان عَلَیْہِ رَحْمَۃُ الرَّحْمٰن سے فرمایا:میں نے تم سےجتنا کپڑاخریداتھایہ اس سے کچھ زائد ہے لہٰذا زائد کپڑا تمہیں واپس لوٹاتا ہوں۔ اس پر دونوں حضرات بحث ومباحثہ کرنے لگے، حضرتِ سیِّدُنا محمد بن سوقہ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ انہیں زیادتی لوٹانا چاہتے تھے اور وہ اسے قبول کرنے سے انکاری تھے۔ حضرتِ سیِّدُنا غزوان عَلَیْہِ رَحْمَۃُ الرَّحْمٰن نے کہا:حضور! اگر یہ میرا ہے تو آپ کا ہوا اور اگر آپ کا ہے تو وہ آپ ہی کا ہے۔
وِراثت کا تمام مال صدقہ:
(6110)…حضرتِ سیِّدُنا ابوالاَحْوص رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ کا بیان ہے کہ حضرتِ سیِّدُنا محمد بن سوقہ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ اپنے والد کے ایک لاکھ درہم کے وارث ہوئے تو آپ سے کہا گیا:حلال کے ایک لاکھ درہم جمع نہیں ہوا کرتے۔ حضرتِ سیِّدُنا ابوالاحوص رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ کہتے ہیں کہ حضرتِ سیِّدُنا محمد بن سوقہ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ نے وہ تمام مال صدقہ کردیا حتّٰی کہ آپ قاضِیِ وقت حضرتِ سیِّدُنا ابن ابولیلیٰ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ سے زکوٰۃ لےکر گزارہ کیا کرتے تھے۔(1)
کوفہ کے سب سے افضل بزرگ:
(6111)…حضرتِ سیِّدُنا سفیان ثَوری عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْقَوِی بیان کرتے ہیں کہ حضرتِ سیِّدُنا محمد بن سوقہ رَحْمَۃُ
مـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــدینـــہ
…اگرکوئی بندہ امیرالمؤمنین حضرت سیِّدُناصدیق اکبررَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہکی طرح مُتَوکِّل ہواوراس کے گھروالے بھی ان کے گھروالوں کی طرح مُتَوکِّل ہوں اورپھروہ اپناسارامال راہِ خدامیں صدقہ کردےتوٹھیک ورنہ شرعی مسئلہ یہ ہے کہ’’سارامال راہِ خدامیں خرچ کرکےخودفقیرنہ بن جاناچاہئے۔‘‘(مراٰۃ المناجیح،۱/ ۱۳۱،ملخصاً)حضرت سیِّدُنامحمدبن سوقہرَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہچونکہ سیِّدُناصدیق اکبررَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ کی طرح توکُّل کے اعلیٰ مرتبے پرفائزتھےاس لئےآپ نے تمام مال راہِ خدامیں صدقہ کردیا۔