اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نےچند لوگوں کو شہروں کی طرف روانہ فرمایا تاکہ وہ لوگوں کو اسلام کی دعوت دیں، ایک صحابی نے عرض کی: اگر آپ ابوبکر و عمر (رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُمَا)کو روانہ فرما دیں تو…! آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے ارشاد فرمایا: میں ابو بکر وعمر سے بے پروا نہیں کیونکہ ابوبکر وعمر (رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُمَا) کا مرتبہ اسلام میں ایسا ہے جیسا انسان کے لیے آنکھ اور کان کا۔(1)
عشق ووفا کاحیرت انگیز منظر:
(4806)…حضرتِ سیِّدُنا وہب بن منبہ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہحضرت سَیِّدُناابن عباس اور حضرتِ سیِّدُنا جابر رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُمَاسے روایت کرتے ہیں کہ جب یہ سورت نازل ہوئی:
اِذَا جَآءَ نَصْرُ اللہِ وَ الْفَتْحُ ۙ﴿۱﴾ وَ رَاَیۡتَ النَّاسَ یَدْخُلُوۡنَ فِیۡ دِیۡنِ اللہِ اَفْوَاجًا ۙ﴿۲﴾ فَسَبِّحْ بِحَمْدِ رَبِّکَ وَ اسْتَغْفِرْہُ ؕؔ اِنَّہٗ کَانَ تَوَّابًا ٪﴿۳﴾ (پ۳۰،النصر: ۱ تا ۳)
ترجمۂ کنز الایمان:جب اللہ کی مدد اور فتح آئے اور لوگو ں کو تم دیکھو کہ اللہ کے دین میں فوج فوج داخل ہوتے ہیں تو اپنے رب کی ثناء کرتے ہوئے اس کی پاکی بولو اور اس سے بخشش چاہوبےشک وہ بہت توبہ قبول کرنے والا ہے۔
تومکی مدنی مصطفےٰصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنےارشادفرمایا:اےجبریل میری وفات کااعلان ہوچکا،حضرتِ سیِّدُناجبریل امینعَلَیْہِ السَّلَامنےعرض کی:آنےوالاپَل آپ کےلیےگزرےہوئےسےبہترہےاورعنقریب آپ کو آپ کا ربّعَزَّ وَجَلَّ اتنا دے گا کہ آپ راضی ہو جائیں گے۔آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے حضرتِ سیِّدُنا بلال رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہکو اذان دینے کا حکم دیا، چنانچہ مہاجرین اور انصار مسجد نبوی میں جمع ہو گئے آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے انہیں نماز پڑھائی پھر منبر پر جلوہ فرما ہو کر اللہ عَزَّ وَجَلَّکی حمد و ثنا کے بعد ایک ایسا خطبہ دیا جس سے دل کانپ اٹھے اور آنکھوں سے اشک رواں ہو گئے،آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے ارشاد فرمایا:اے لوگو! میں تمہارے لیے کیسا نبی ہوں؟ عرض کی گئی: اللہ عَزَّ وَجَلَّآپ کو جزائے خیر عطا فرمائے آپ اچھے نبی ہیں، باپ کی طرح مہربان، ناصح بھائی کی طرح شفیق، آپ نے اللہ عَزَّ وَجَلَّکے پیغامات کا حق ادا کیا اور اس کی وحی ہم تک پہنچا دی، آپ نے ہمیں حکمت اور اچھی نصیحت کے ذریعےاپنے رب کے
مـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــدینـــہ
… تاریخ ابن عساکر،الرقم ۳۳۹۸ ،عبدالله ویقال عتیق بن عثمان،۳۰/ ۱۱۴ ،حدیث: ۶۱۲۲