Brailvi Books

حِلْیَۃُ الْاَوْلِیَاء وَطَبَقَاتُ الْاَصْفِیَاء(جلد:4)ترجمہ بنام اللہ والوں کی باتیں
97 - 475
 سکا اور اس کے ساتھ ایک گٹھا اور ملا دیا۔
(4796)…حضرتِ سیِّدُنا وہب بن منبہرَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہفرماتے ہیں: دوزخیوں کو کپڑے پہنائے گئے حالانکہ ان کے لئے ننگا ہونا ہی بہتر تھا اور انہیں زندگی دی گئی حالانکہ ان کے لئے موت ہی بہتر تھی۔
مالدار خطرے میں:
(4797)…حضرتِ سیِّدُنا وہب بن منبہ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ فرماتے ہیں: حضرتِ سیِّدُنا داود عَلَیْہِ السَّلَام نے عرض کی:اے اللہ عَزَّ  وَجَلَّ!اگر کوئی محتاج کسی مالدار سے سوال کرے اور وہ اسے نہ  دے تو  میں تجھ  سے دعا کرتا ہوں کہ جب  وہ تیری  بارگاہ میں دعا کرے تو قبول نہ فرما اور جب تجھ سے کچھ مانگے تو عطا نہ فرما۔
(4798)…حضرتِ سیِّدُنا وہب بن منبہرَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہفرماتے ہیں: مسکینوں کے ساتھ احسان کرو کیونکہ کل قیامت میں ان کی حکومت ہو گی۔
بے عمل عالم کی مثال:
(4799)…حضرتِ سیِّدُنا وہب بن منبہرَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ فرماتے ہیں: جس نے علم سیکھا لیکن عمل نہ کیا اس  کی مثال اس طبیب کی طرح ہے جس کے پاس دوا موجود ہے لیکن  اس کے ذریعے علاج نہیں کرتا۔
چغل خور شیطان کا ایلچی ہے:
(4800)…حضرتِ سیِّدُنافضل بن ابوعياشعَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْوَہَّابکےآزادکردہ غلام عنبرکہتےہیں:میں حضرتِ سیِّدُنا وہب بن منبہ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہکے پاس بیٹھا ہوا تھا،اتنے میں ایک شخص آیا اور کہا:میں فلاں شخص کے پاس سے گزرا تو وہ آپ کو گالیاں دے رہا تھا۔ حضرتِ سیِّدُنا وہب رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہکوغصہ آگیااورفرمایا: شیطان کو تیرے سوا کوئی اور ایلچی نہیں ملا۔ ابھی میں وہیں تھا  کہ وہ گالی دینے والا شخص آیا اور آپرَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ کو سلام کیا،آپ نے اس کے سلام کا جواب دیا، ہاتھ بڑھا کر مصافحہ کیا اور اسے اپنے پاس بٹھا لیا۔
(4801)…حضرتِ سیِّدُنا وہب بن منبہرَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہفرماتے ہیں: میں نے ایک کتاب میں پڑھا:  اے اِبْنِ آدم! تو اپنے دین کی فکر کر تیرا رزق تو عنقریب تجھے مل ہی جائے گا۔