ہے، سیِّدُنا وہب رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ کے ساتھ ایک شخص تھا وہ کہنے لگا: اب اللہ عَزَّ وَجَلَّکی کونسی نعمت تیرے پاس رہ گئی ہے جس پر تو شکر ادا کر رہا ہے؟نابینا مریض نے کہا: شہر والوں کی طرف دیکھو کہ ان کی تعداد کتنی زیادہ ہے اور ان میں میرے سوا کوئی بھی ربّ تعالیٰ کو نہیں پہچانتا کیا میں پھر بھی اس کا شکر ادا نہ کروں؟
مومن کی نشانیاں:
(4787)…حضرتِ سیِّدُنا وہب بن منبہرَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہفرمایا کرتے تھے: مومن کسی سے ملتا ہے تو علم حاصل کرنے کے لیے، خاموش رہتا ہےتو سلامت رہنے کے لیے، کلام کرتا ہے توسمجھانے کےلیے اور تنہائی اختیار کرتا ہے تو پرسکون ہونے کے لیے۔
(4788)…حضرتِ سیِّدُنا وہب بن منبہرَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہفرماتے ہیں: مومن غور وفکر کرنے والا، نصیحت پکڑنے والا، سرزنش قبول کرنےوالا ہوتا ہے، جب غور وفکر کرتا ہے تو اسے اطمینان وسکون ملتا ہے، نصیحت پکڑتا ہےتو صلہ رحمی کرتا ہے، سرزنش کیا جائے تو گناہ چھوڑ دیتا ہے۔ غربت میں عاجزی کرتا ہے، قناعت کرتا ہے تو اہتمام نہیں کرتا، خواہشات کو چھوڑ کر آزاد ہو جاتا ہے، جو حسد کرے اس سے بھی محبت کرتا ہے، ہر فانی چیز سے منہ موڑ کر اپنی عقل کو کامل کرتا ہے۔ باقی رہنے والے عمل میں راغب ہو کر مقام معرفت تک پہنچتا ہے، اس کا دل اس کے غم سےجڑا ہوتا ہے اور اس کا غم بھی غم آخرت ہوتا ہے، جب دنیا والے اپنی خوشی پر خوش ہوں تو یہ خوش نہیں ہوتا بلکہ خود پر ہمیشہ رنجیدہ و غمگین ہی رہتا ہے، جب لوگ سو جائیں تو خوش ہوتا ہے اور تلاوت قرآن میں مشغول ہو کر اسے اپنے دل میں اتارتا ہے۔کبھی تو اس کا دل خوف زدہ اور آنکھیں اتنی پرنم ہو جاتی ہیں کہ پوری پوری رات تلاوت قرآن میں گزار دیتا ہے اورپورا دن گوشہ نشین ہو کر اپنے گناہوں پر فکر مند ہوتا اور اپنی نیکیوں کو چھوٹا سمجھنے لگتا ہے۔ قیامت کے دن اسے تمام مخلوق کے سامنے پکار کر کہا جائے گا: اے عزت والے! اٹھ اور جنت میں داخل ہو جا۔
پتھر کی نصیحت آمیز تحریر:
(4789)…حضرتِ سیِّدُنا ابو زکریا تیمی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْغَنِیفرماتے ہیں: ایک مرتبہ خلیفہ سلیمان بن عبدالملک مسجد حرام میں بیٹھا تھا کہ اس کے پاس ایک منقش پتھر لایا گیا،اس نےکہا:کسی پڑھنےوالےکولےآؤ۔چنانچہ