Brailvi Books

حِلْیَۃُ الْاَوْلِیَاء وَطَبَقَاتُ الْاَصْفِیَاء(جلد:4)ترجمہ بنام اللہ والوں کی باتیں
93 - 475
بلند رتبہ مومن کون؟
(4783)…حضرتِ سیِّدُنا وہب بن منبہرَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہفرماتے ہیں: میں نے زبور میں پڑھا کہ اللہ عَزَّ  وَجَلَّ نے حضرتِ سیِّدُناداود عَلَیْہِ السَّلَامسے ارشاد فرمایا: اے داود! کیا تم جانتے ہو پل صراط  پر سب سےتیزی سے گزرنے والے کون ہوں گے؟وہ جو میرے فیصلے پر راضی رہے اور ان کی زبانیں میرے ذکر سے تر رہیں۔ کیا تم جانتے ہو کون سے فقرا افضل ہیں؟ وہ جو میرے فیصلے اور تقسیم پر راضی رہے اور میری دی ہوئی نعمت پر میری تعریف کی۔اے داود! کیا تم جانتے ہو میرے نزدیک کس مومن کارتبہ بڑا ہے؟ اس کا جو بچائے ہوئے  مال کے مقابلے میں خرچ  کئے جانے والے مال  پر زیادہ خوش ہو۔
50سالہ عبادت کا صلہ:
(4784)…حضرتِ سیِّدُنا وہبرَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہفرماتے ہیں: ایک شخص نے50سال تکاللہ عَزَّ  وَجَلَّ کی عبادت کی تو اللہ عَزَّ  وَجَلَّنے اس کی طرف الہام فرمایا کہ بے شک میں نے تیری مغفرت کر دی۔ وہ بولا: یاربّ عَزَّ  وَجَلَّ!تو نے میری مغفرت کیسے کر دی حالانکہ میں نے تو کوئی گناہ ہی نہیں کیا؟چنانچہ اللہ عَزَّ  وَجَلَّ نے اس کی گردن کی ایک رگ  کو حکم دیا تو اس نے کام کرناچھوڑ دیا،اس کی تکلیف سے وہ نہ سو سکتا نہ نماز پڑھ سکتا تھا،جب کچھ سکون ہواتوسوگیااسی حالت میں ایک فرشتہ آیاتواس نےفرشتےسےاس دردکی شکایت کی،فرشتےنے کہا: بےشک تمہارا ربّ عَزَّ  وَجَلَّفرماتا ہے کہ تمہاری 50سال کی عبادت کا صلہ اس درد سے ملنے والا سکون ہے۔
نعمتوں کی اصل:
(4785)…حضرتِ سیِّدُنا وہب بن منبہرَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہفرماتے ہیں: تمام نعمتوں کی اصل تین ہی نعمتیں ہیں: پہلی اسلام کی نعمت کہ ہر نعمت اسی کا صدقہ ہے دوسری عافیت(یعنی امن) کہ زندگی کا مزہ اسی سے ہے اور تیسری نعمت دولت کہ اس کے بغیر زندگی ادھوری ہے۔ 
شکر کی عظیم مثال:
(4786)…حضرتِ سیِّدُنا وہب بن منبہرَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ كا گزر ایک ایسے شخص کے پاس سے ہوا جو نابینا ہونے کے ساتھ ساتھ برص اور جذام (کوڑھ کے مرض) میں مبتلا تھااور کہہ رہا تھا: اللہکی نعمتوں پر اس کا شکر