یہ لوگ یہیں تھے کہ آسمان سے ایک گھڑ سوار بادشاہ کے لشکر کے درمیان اترا تو سب ہاتھی بدک کر گھوڑوں پر چڑھ دوڑے اور گھوڑے لوگوں کو کچلنے لگے یوں وہ بادشاہ گھوڑوں ، ہاتھیوں اور تمام لوگوں سمیت ہلاک ہو گیا۔
چٹان سے کلام:
(4777)…حضرتِ سیِّدُنا وہب بن منبہرَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہفرماتے ہیں:اللہ عَزَّ وَجَلَّ نے بیت المقدس کی ایک چٹان سے ارشاد فرمایا: میں ضرور تجھ پر اپنا عرش رکھوں گا، ضرور تجھ پر اپنی مخلوق کو جمع کروں گا اوراس دن ضرور داؤد (عَلَیْہِ السَّلَام)گھوڑے پر سوار تجھ پر آئیں گے۔
(4778)…حضرتِ سیِّدُنا وہب بن منبہرَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہفرماتے ہیں: میں اپنے اخلاق کی چھان بین کر رہا ہوں کیونکہ ان میں کوئی ایسی چیز نہیں جو مجھے اچھی لگے۔
(4779)…حضرتِ سیِّدُنا وہب بن منبہرَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہفرماتے ہیں:بعض اوقات میں مغرب کے وضو سے فجر کی نماز ادا کرتا ہوں۔
بھوک مٹانے والا حسن وجمال:
(4780)…حضرتِ سیِّدُنا وہب بن منبہرَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہفرماتے ہیں:حضرتِ سیِّدُنا نوحعَلَیْہِ السَّلَاماپنے زمانے والوں میں سب سے زیادہ خوبصورت تھے لیکن اپنے چہرے پر نقاب ڈالے رہتے، جب کشتی والے بھوک سے تڑپنے لگے تو آپ نے ان کے لیے اپنے چہرے سے نقاب ہٹایا تو سب خوب سیر ہو گئے۔
(4781)…حضرتِ سیِّدُنا وہب بن منبہرَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہفرماتے ہیں: حضرتِ سیِّدُنا عیسٰی عَلَیْہِ السَّلَام نے اپنے حواریوں سے ارشاد فرمایا: جو تم میں مصیبت پر زیادہ روتا پیٹتا ہے وہ دنیا سے زیادہ محبت کرنے والا ہے۔
اپنے عیبوں کو دیکھو:
(4782)…حضرتِ سیِّدُنا وہب بن منبہرَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہفرماتے ہیں: خوشخبری ہے اس کے لیے جس نے دوسرے کے عیب کی بجائےاپنے عیب کی طرف نظر کی۔ خوشخبری ہےاس کے لیے جس نے مالداری کے باوجوداللہ عَزَّ وَجَلَّکے لیے عاجزی کی، کمزرو اور محتاج پر مہربانی کی، اپنے جمع شدہ مال کو نافرمانی میں خرچ نہ کیا، اہل علم، بردبار اور دانشمندوں کی مجلس اختیار کی اور اپنی لمبی عمر کے باوجود (بُری)بدعت کی جانب مائل نہ ہوا۔