Brailvi Books

حِلْیَۃُ الْاَوْلِیَاء وَطَبَقَاتُ الْاَصْفِیَاء(جلد:4)ترجمہ بنام اللہ والوں کی باتیں
90 - 475
 جب وہ مر گیا پھر تم نے اس کے ساتھ بھلائی کی۔ حضرتِ سیِّدُنا یحییٰرَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ فرماتے ہیں: میں نے وہ بستی دیکھی ہے جس میں اس شخص کا انتقال ہوا وہاں ہر ایک کے ہاں مہمان خانہ موجود ہے لیکن اب نہ وہاں کوئی امیر موجود ہے نہ ہی کوئی فقیر۔(یعنی ویران پڑی ہے)۔
(4771)…حضرتِ سیِّدُنا وہب بن منبہرَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ فرماتے ہیں: جب تحفہ دروازے سے داخل ہو تو حق روشن دان سے نکل جاتا ہے۔
صرف ’’آج‘‘ کی فکر کرو:
(4772)…حضرتِ سیِّدُنا وہب بن منبہرَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ فرماتے ہیں: ایک نبی عَلَیْہِ السَّلَامکا گزر کسی غار میں موجود ایک عابد کے پاس سے ہوا تو اسے سلام کیا: عابد نے سلام کا جواب دیا تو نبی عَلَیْہِ السَّلَام نے فرمایا: اے اللہکے بندے! تو یہاں کب سے ہے؟عابد نے عرض کی: تین سو سال سے۔انہوں نے پوچھا: تیرا گزر بسر کہاں سے ہوتا ہے؟ عابد نے عرض کی: درخت کے پتوں سے۔ انہوں نے پوچھا: پیتا کہاں سے ہے؟ عابد نے عرض کی: چشموں کے پانی سے۔انہوں نے پوچھا: موسم سرما میں تو کہاں ہوتا ہے؟ عابد نےعرض کی: اس پہاڑ کے نیچے۔انہوں نےارشاد فرمایا: عبادت پراتنا صبر واستقامت کیسے؟ عابد نےعرض کی: میں کیسے صبر نہ کروں فقط آج کے دن رات ہی تو صبر کرنا ہے  گزشتہ کل تو جو ہونا تھا ہو چکا اور آئندہ  کل ابھی آیا نہیں ہے۔ چنانچہ نبی عَلَیْہِ السَّلَام کو اس حکمت بھری بات سے بڑا تعجب ہوا کہ’’فقط آج کے دن رات ہی تو صبر کرنا ہے۔“
نصیحت کا انوکھا انداز:
(4773)…حضرتِ سیِّدُنا وہب بن منبہ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہفرماتے ہیں: ایک شخص نے اپنے شاگرد سے پوچھا: جب تم عورتوں اور چوپایوں کو ایک ساتھ دیکھتے ہو تو ان میں فرق کرتےہو؟ شاگرد بولا: جی ہاں۔ استاد نے پوچھا: جب تم دیناروں اور کنکریوں کو ایک ساتھ دیکھتے ہو تو ان میں فرق کرتے ہو؟ شاگرد نے کہا: جی ہاں۔  استاد نے کہا: بیٹا! یقیناً تم نے خواہش کو خود سے دور نہیں کیا بلکہ اس کو بچا کر رکھا ہوا ہے۔
دین کے تین کنارے:
(4774)…حضرتِ سیِّدُنا وہب بن منبہرَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہفرماتے ہیں: دین کے تینوں کناروں میں عمل کرو