یہاں ہوں آب زم زم ہی پیوں گا اور اسی سے وضو کروں گا تمہیں کیا معلوم آب زم زم کیا ہے؟ اس ذات کی قسم جس کے قبضہ میں وہب کی جان ہے! کتابُ اللہمیں ہے کہ یہ کھانے کا کھانا اور بیماریوں کی شفا ہے، اس ذات كی قسم جس کے قبضہ میں وہب کی جان ہے! اللہ عَزَّ وَجَلَّ کی ایک کتاب میں ہے کہ جو بھی شخص اس پانی کو برکت کی نیت سے خوب سیر ہوکر پیئے اس کی بیماری دور ہو جائے گی اور تندرستی آجائے گی۔ مزید فرماتے ہیں: زمزم کو دیکھنا عبادت ہے اور اس کو دیکھنے سے خطائیں خوب معاف ہوتی ہیں۔
بادشاہت کانشہ جلد نہیں اترتا:
(4769)…حضرتِ سیِّدُنا وہب بن منبہرَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ نے فرمایا:بادشاہ بخت نصر کو مسخ کر کے شیربنایا گیا تو وہ درندوں کا بادشاہ بن گیا پھر مسخ کر کے گدھ بنایا گیا تو پرندوں کا بادشاہ بن گیا پھر مسخ کر کے بیل بنایا گیا تو چوپایوں کا بادشاہ بن گیا۔ ہر حالت میں اس کی عقل سلامت رہی اور وہ اپنی بادشاہت کو قائم رکھنے کی تدبیر میں لگا رہا پھر اللہ عَزَّ وَجَلَّ نے اس کی روح کو اصلی حالت پر لوٹایا تو اس نے توحید الٰہی کا اعلان کیا اور کہا: آسمان کے معبود کے سوا تمام معبود باطل (جھوٹے) ہیں۔ حضرتِ سیِّدُنا وہب رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ سے پوچھا گیا: کیا بخت نصر ایمان پر مرا؟ آپ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہنے فرمایا: میں نے اہل کتاب کا اس میں اختلاف دیکھا ہے کچھ کہتے ہیں: مرنے سے پہلے ایمان لے آیا تھا اور کچھ کہتے ہیں: اس نے انبیا عَلَیْہِمُ السَّلَام کو شہید کیا، آسمانی کتابوں کو جلایا اور بیت المقدس کی بے حرمتی کی لہٰذا اس کی توبہ قبول نہیں ہوئی(1)۔
زندوں سے بھلائی کرو:
(4770)…حضرتِ سیِّدُنا وہب بن منبہرَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہفرماتے ہیں: ايك شخص نے اپنے شہر والوں سے تین دن تک کھانا مانگا مگر کسی نے بھی نہ دیا، چوتھے دن وہ مر گیا تو لوگوں نے اسے کفنا کر دفنا دیا اگلی صبح دیکھا گیا کہ اس کا کفن محراب میں موجود ہے اور اس پر لکھا ہوا ہے: جب وہ زندہ تھا تو تم نے اسے قتل کر دیا اور
مـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــدینـــہ
…قوم عمالقہ کا ایک لڑکا ان کے بت ’’نصر‘‘کے پاس لاوارث پڑا ہوا ملا چونکہ اس کے باپ کا نام کسی کو نہیں معلوم تھا، اس لئے لوگوں نے اس کا نام بخت نصر (نصر کا بیٹا)رکھ دیا۔ خدا کی شان کہ یہ لڑکا بڑا ہو کر کہراسف بادشاہ کی طرف سے سلطنت بابل پر گورنر مقرر ہو گیا۔ پھر یہ خود دنیا کا بہت بڑا بادشاہ ہو گیا۔ (عجائب القرآن مع غرائب القرآن، ص۴۷)