موجود پانی پھلوں کے موسم میں اس کے پھل بڑھاتا ہے اور پھلوں کا موسم نہ ہو تب بھی وہ ہرا بھرا رہتا ہے۔
(4765)…(الف)حضرتِ سیِّدُنا وہب بن منبہرَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ فرماتے ہیں: جب قیامت قائم ہو گی تو پتھر عورتوں کی طرح چیخیں گے اور ہر چھوٹا بڑا خاردار درخت خون کے آنسو روئے گا۔
(4765)…(ب)حضرتِ سیِّدُنا وہب بن منبہرَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہفرماتے ہیں: ہر چیز پہلے چھوٹی سی ظاہر ہوتی ہے پھر بڑی ہوتی ہے سوائے مصیبت کے کہ مصیبت ظاہر ہوتی ہے تو بڑی ہوتی ہے پھر چھوٹی ہو جاتی ہے۔
تاجر کا رزق:
(4766)…حضرتِ سیِّدُناوہب بن منبہرَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہفرماتےہیں:ايك سائل نےحضرتِ سیِّدُناداؤد عَلَیْہِ السَّلَامکےدروازےپرصدالگائی:اےنبوت کےگھراوررسالت کاسرچشمہ!مجھ پرکچھ صدقہ کرو،اللہ عَزَّ وَجَلَّ تمہیں اپنے اہل میں موجود تاجر کے رزق جیسا رزق عطا فرمائے۔آپعَلَیْہِ السَّلَام نے ارشادفرمایا: اسے دو، اس ذات کی قسم جس کے قبضہ قدرت میں میری جان ہے! بے شک زبور میں ایسا ہی ہے۔
شہرت کا اعتبار:
(4767)…حضرتِ سیِّدُنا وہب بن منبہرَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہفرماتے ہیں: جو جھوٹا مشہور ہو گیا اس کا سچ قبول نہیں کیا جاتا،جو سچا مشہور ہوگیا اس کی بات پر اعتبار کیا جاتا ہے، جو بغض اور غیبت کی کثرت کرتا ہو اس کی خیر خواہی پر اعتماد نہیں کیا جاتا، جو جھوٹا اور دھوکے باز مشہور ہو گیا اس کی محبت پر بھروسا نہیں کیا جاتا، جو خود کو اپنی حیثیت سے بڑا ظاہر کرے اس کی عزت نہیں کی جاتی اور جو بات دوسروں میں بری سمجھی جاتی ہے وہ اس میں بھی اچھی نہیں سمجھی جائے گی۔
زم زم شریف کی برکات:
(4768)…حضرتِ سیِّدُناعبداللہبن عثمان بن خیثم رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ فرماتے ہیں: حضرتِ سیِّدُنا وہب بن منبہرَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ ہمارے یہاں تشریف لائے تو آب زم زم کے سوا نہ کوئی پانی پیا اور نہ کسی اور پانی سے غسل کیا۔ ہم نے کہا: آپ کوئی دوسرا میٹھا پانی استعمال کیوں نہیں کرتے؟ انہوں نے فرمایا: جب تک میں