قتل کے بدلے میں تم پر ضرورعتاب فرماتا لیکن میں نےتمہیں وہ قتل معاف کیا صرف اس وجہ سے کہ اس جان نے دن یا رات کے ایک لمحےبھی میرے خالِق یا رازِق ہونے کا اعتراف نہیں کیا تھا۔
نیکوں کے لئے انعامات:
(4761)…حضرتِ سیِّدُنا وہب بن منبہ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ فرماتے ہیں:اللہ عَزَّ وَجَلَّ نے ایک نبی عَلَیْہِ السَّلَام کی طرف وحی فرمائی:میں جانتا ہوں برداشت کرنے والے میرے لیے جو کچھ برداشت کرتے ہیں اور میری رضا کے طالب جس قدر مشقتیں اٹھاتے ہیں، پس کیسا لگے گا جب وہ میری جنت میں حاضر ہوں گے اور اس کے باغات میں موجیں کریں گے،اللہ عَزَّ وَجَلَّ کے لئےاپنے اعمال خالص کرنے والوں کو قریبی محبوب(باری تعالیٰ) کی طرف سے نگاہِ رحمت کی خوشخبری ہے۔تم کیاسمجھتے ہو کہ میں ان کا عمل بھلا دوں گا؟ یہ کیسے ہو سکتا ہے حالانکہ میں بڑے فضل والا ہوں جو مجھ سے منہ موڑے میں اس پر بھی کرم کرتا ہوں تو یہ کیسے ہو سکتا ہے کہ جو میری طرف بڑھے میں اس پر فضل وکرم نہ کروں میں کسی پر اتنا غضبناک نہیں ہوتا جتنا اس پر ہوتا ہوں جو گناہ کرے پھر اس گناہ کو میرے عفو وکرم کے مقابل بڑا جانے ، اگر میں کسی کو عذاب دینے میں جلدی کرتا اور جلد بازی میری شان ہوتی تو اپنی رحمت سے مایوس ہو جانے والوں کی جلد پکڑ کر لیتا، اگر نیک مؤمنین دیکھ لیں کہ میں انہیں ظالموں کے مقابلے میں کتنا پسند کرتا ہوں اور جن کو ہمیشہ کی جنت عطا کر دی گئی ان کو میں حکم دیتا ہوں کہ میرے فضل وکرم میں شک نہ کریں،میں دَیَّان یعنی ایسا فیصلہ کرنے والا ہوں جس کی نافرمانی جائز نہیں اور جو میری اطاعت کرے اپنی رحمت سے اسے اچھا بدلہ دینےوالا ہوں، جو میرے سامنے کھڑا ہونے سے ڈرے میں اسے خوفزدہ نہیں کرتا، اگر میرے بندے دیکھ لیں کہ روز قیامت میں محلات کو کیسے بلند کروں گا کہ آنکھیں حیران ہو جائیں گی تو وہ مجھ سے پوچھیں گے: یہ کس کے لیے ہے؟ میں کہوں گا: اس کے لیے جو میری خاطر دنیا سے کنارہ کش ہوا ، اپنے اوپر گناہوں کا بوجھ نہ لادا اور نہ میری رحمت سے مایوس ہوا۔ بے شک میں تعریف کا پورا پورا بدلہ دینےوالا ہوں لہٰذا میری تعریف کرو۔
ایک بال سے لٹکا مردہ:
(4762)…حضرتِ سیِّدُنا وہب بن منبہ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ فرماتے ہیں: حضرتِ سیِّدُنا عیسیٰ عَلٰی نَبِیِّنَاوَعَلَیْہِ