Brailvi Books

حِلْیَۃُ الْاَوْلِیَاء وَطَبَقَاتُ الْاَصْفِیَاء(جلد:4)ترجمہ بنام اللہ والوں کی باتیں
84 - 475
 کے کانوں تک پہنچا دی، آپ عَلَیْہِ السَّلَام نیچے اتر کر اس کاشتکار کے پاس آئے اور فرمایا: میں نے تمہاری بات سن لی ہے اور میں اس لیے تمہارے پاس آیا ہوں کہ جس چیز کی تمہیں قدرت نہیں اس کی تمنا مت کرو، تمہارا ایک مرتبہ تسبیح کہنا جسے اللہ عَزَّ  وَجَلَّقبول فرما لے وہ حضرتِ سیِّدُنا داؤد عَلَیْہِ السَّلَامکی اولاد کو جو کچھ دیا گیا ہے اس سے بہتر ہے۔ کاشتکار نے کہا: اللہ عَزَّ  وَجَلَّآپ سے غم کو دوررکھے جس طرح آپ نے میرا غم دور کیا۔
خلیل کیوں بنایا؟
(4757)…حضرتِ سیِّدُنا وہب بن منبہرَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہفرماتے ہیں: میں نے ایک آسمانی كتاب میں پڑھا کہ اللہ عَزَّ  وَجَلَّ نے حضرتِ سیِّدُنا ابراہیم عَلَیْہِ السَّلَام سے ارشاد فرمایا:تم جانتے ہومیں نےتمہیں کواپنا خلیل کس وجہ سےبنایا؟آپعَلَیْہِ السَّلَامنےعرض کی:اےمیرےربّ!میں نہیں جانتا۔اللہ عَزَّ  وَجَلَّنےارشاد فرمایا: اس لئے کہ تم میرے سامنےنماز میں عاجزی سے کھڑے ہوتے ہیں۔
روحیں حال پوچھتی ہیں:  
(4758)…حضرتِ سیِّدُنا وہب بن منبہ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ فرماتے ہیں: چوتھے آسمان میں اللہ عَزَّ  وَجَلَّ نے ایک گھربنایا ہے جسے بَیْضَاء کہا جاتا ہے، وہاں مؤمنین کی روحیں رہتی ہیں جب دنیا والوں میں سے کوئی مرتا ہے تو وہ روحیں اس سے ملاقات کرتی اور دنیا والوں کے حال احوال پوچھتی ہیں اسی طرح جیسے کوئی پردیسی گھر آئے تو گھر والے اس کا حال چال پوچھتے ہیں۔
(4759)…حضرتِ سیِّدُناوہب بن منبہرَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہفرماتےہیں:جس نےاپنی خواہش کواپنےقدموں تلے رکھا شیطان اس کے سائے سے بھی بھاگتا ہے اور جس کی بردباری اس کی خواہش پر غالب آگئی وہی زبردست عالم ہے۔
خالق یا رازق ہونے کا اقرار:
(4760)…حضرتِ سیِّدُنا وہب بن منبہ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ فرماتے ہیں: اللہ عَزَّ  وَجَلَّ نے حضرتِ سیِّدُنا موسیٰ عَلَیْہِ السَّلَام سے ارشاد فرمایا: اے اِبْنِ عمران! مجھے میری عزت کی قسم!جس جان کو آپ نے مکا مار کر قتل کیا اگر اس نےدن یا رات کے کسی ایک لمحے بھی یہ اقرار کیا ہوتا  کہ میں ہی اس کا خالق یا رازق ہوں تو اس کے