سامنے آیا تو اس کا چہرہ بھر چکا تھا (یعنی وہ بڑا ہو گیا تھا)۔ حضرتِ سیِّدُنا وہب بن منبہ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ نے ان سے کہا: بے شک تم سے پہلے والوں کو جب کوئی مصیبت پہنچتی تو وہ اسے آسانی شمار کرتے تھے اور جب کوئی آسانی پہنچتی تو اسے مصیبت شمار کرتے تھے۔
اللہعَزَّ وَجَلَّکے سوا کسی کا ڈر نہیں:
(4744)…حضرتِ سیِّدُنا وہب بن منبہرَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ فرماتے ہیں: جنگل میں عبادت کرنے والا ایک شخص اپنے ساتھی کے ساتھ جا رہا تھا، راستے میں ایک شیر شکار کے انتظار میں بیٹھا تھا، ساتھی اس عابد کو تنبیہ کرنے کے لیے شیر شیر پکارنے لگا لیکن عابد نے کوئی توجہ نہ دی اور شیر کے پاس سے گزر گیا، شیر بھی اٹھا اور راستے سے کنارے پر ہو گیا جب وہ ساتھی آگے بڑھ کر اس عابد تک پہنچا تو کہنے لگا: کیا میں نے تمہیں شیر سے ڈرایا نہیں تھا تم پھر بھی چل پڑے۔ عابد نے کہا: تم نے یہ کیسے سوچ لیا کہ میں اللہ عَزَّ وَجَلَّکے سوا کسی چیز سے ڈرتا ہوں۔اللہ عَزَّ وَجَلَّمجھ میں یہ بات دیکھے کہ میں اس کے علاوہ کسی سے ڈرتا ہوں اس سے زیادہ مجھے یہ پسند ہے کہ میرےجسم سےطرح طرح کی بدبوئیں پھیل جائیں۔
رزق میں رکاوٹ:
(4745)…حضرتِ سیِّدُنا وہب بن منبہرَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہفرماتے ہیں: بیابان میں عبادت کرنے والے ایک شخص اور اس کے ہم نشین کو ہر تین دن میں ایک مرتبہ غیب سے کھانا آیا کرتا تھا ایک مرتبہ ان دونوں کے پاس ایک ہی شخص جتنا کھانا آیا تو اس عابد نے اپنے ہم نشین سے کہا: ہم دونوں میں سے کسی ایک سے کوئی ناپسندیدہ بات صادر ہوئی ہے جس نے ایک کا رزق روک دیا ہے لہٰذا یاد کرو تم نے ایسا کیا کیا ہے؟ ہم نشین بولا: میں نے کچھ نہیں کیا پھر کچھ یاد آیا تو کہنے لگا: ہاں ہاں!ایک مسکین سوالی بن کر ہمارے دروازے پر آیا تھا تو میں نے اس کے لیے دروازہ بند کر دیا تھا۔عابد نے کہا: یہی تو بات ہے، پھر ان دونوں نے اللہ عَزَّ وَجَلَّسے معافی مانگی تو پہلے کی طرح دونوں کا رزق آنے لگا۔
جادو، بدشگونی اور کہانت کا وبال:
(4746)…حضرتِ سیِّدُنا وہب بن منبہ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ فرماتے ہیں: میں نے ایک کتاب میں پڑھا کہ (اللہ