عہدۂ قضاکی بے برکتی:
(4739)…حضرتِ سیِّدُنا عبدالرزاق عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الرَّزَاق فرماتے ہیں: میں نے حضرتِ سیِّدُنا وہب بن منبہ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ سے عرض کی:آپ ہمیں ثریا ستارہ دیکھ کر خبریں بتایا کرتے تھے کافی عرصہ سے ایسا نہیں ہوا؟آپ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہنے فرمایا: جب سے میں قاضی بنا ہوں یہ صلاحیت ختم ہو گئی ہے۔ حضرتِ سیِّدُنا عبدالرزاق عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الرَّزَاق کہتے ہیں:میں نے یہ بات حضرتِ سیِّدُنا معمررَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہکو بتائی تو انہوں نےفرمایا:حضرتِ سیِّدُناحسن بصریعَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْقَوِیجب عہدۂ قضاپرفائزہوئےتوعلمانےان کی فہم و فراست کی تعریف کرنا چھوڑ دی تھی۔
(4740)…حضرتِ سیِّدُنا وہب بن منبہرَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ فرماتے ہیں: مصیبت مومن کے لیے ایسی ہے جیسے چوپائے کے لیے پاؤں کی بیڑی۔
(4741)…حضرتِ سیِّدُنا وہب بن منبہرَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہفرماتے ہیں: جو کسی مصیبت میں مبتلا کیا گیا یقیناً وہ انبیائےکرام عَلَیْہِمُ الصَّلَاۃُ وَالسَّلَام کے راستے پر چلایا گیا۔
(4742)…حضرتِ سیِّدُنا وہب بن منبہرَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہفرماتے ہیں: میں نے ایک حواری کی کتاب میں پڑھا: جب تجھے آزمائش میں مبتلا کیا جائے یا فرمایا: آزمائش والوں کی راہ پر چلایاجائے تو خود کو خوش نصیب سمجھ کیونکہ یقیناً تجھے انبیائے کرام عَلَیْہِمُ السَّلَاماور صالحین کی راہ پر چلایا گیا ہے اور جب تجھے نرمی وآسانی کی راہ پر چلایا جائےتو یقیناً تیرے لیے انبیااورصالحین کے علاوہ کسی دوسرے کی راہ منتخب گئی ہے۔
مصیبت کو آسانی جانتے:
(4743)…حضرتِ سیِّدُنا عثمان بن بِزْدَوَیْہرَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ فرماتے ہیں: میں عرفہ کے دن ابن عامر کے کھجور کے درختوں تلے حضرتِ سیِّدُنا وہب بن منبہ اور حضرتِ سیِّدُنا سعید بن جبیررَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِمَا کے ساتھ کھڑا تھا کہ حضرتِ سیِّدُنا وہب رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہنے حضرتِ سیِّدُنا سعید عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْمَجِیْد سےپوچھا: اے ابوعبداللہ! حجاج سے کتنی مدت تک خوفزدہ رہے؟ حضرتِ سیِّدُنا سعید عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْمَجِیْدنے کہا: میں اپنی بیوی کے پاس سے اس وقت نکلا تھا جب وہ حاملہ تھی اور اس وقت ملا جب اس کے پیٹ کا بچہ میرے