عابد نماز میں مشغول ہوا تو شیطان نے اس سے کہا: کیوں نہ ہم بستی کی طرف جائیں اور لوگوں میں گھل مل جائیں پھر ان کی طرف سے ملنے والی تکلیفوں پر صبر کریں تو یوں ہمیں زیادہ ثواب ملے گا، عابد نے اس کی بات مان لی اور جیسے ہی اس کے ساتھ چلنے کے لیے اپنی عبادت گاہ سے قدم باہر نکالا ایک فرشتہ آگیا اور کہا: یہ شیطان ہے اور تجھے گمراہ کرنا چاہتا ہے۔ عابد نے یہ سنتے ہی کہا: میں نے اپنا قدم اللہ عَزَّ وَجَلَّکی نافرمانی کی طرف اٹھایا ہے! پس وہیں رکا اور مرتے دم تک وہیں عبادت کرتا رہا۔
حکایت: حفاظتِ دین کی خاطرجان دے دی
(4738)…حضرتِ سیِّدُنا وہب بن منبہرَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہفرماتے ہیں: اپنے زمانے کا افضل شخص ایک ایسے بادشاہ کے پاس آیا جو لوگوں کو خنزیر کا گوشت کھانے پر مجبور کرتا تھا، لوگوں کے دلوں میں اُس شخص کی بہت عظمت تھی لیکن اس کے برے انجام کا خوف بھی، بادشاہ کے محافظ نے اس شخص سے کہا: آپ میری بکری کا بچہ مجھے لا دیں میں اسے ذبح کر دوں گا کیونکہ اس کا کھانا تو آپ کے لیے حلال ہی ہے لہٰذا جب بادشاہ آپ کے لیے خنزیر کے گوشت کا حکم دے گا تو میں وہی بکری کا گوشت لے آؤں گا آپ اسے کھا لیجئے گا،یوں اس نے بکری کا بچہ ذبح کر لیا پھر جب بادشاہ نے اس شخص کو بلایا اور اس کے لیے خنزیر کا گوشت لانے کا حکم دیا تو محافظ وہی بکری کا گوشت لے آیا ، بادشاہ نے اس شخص کو حکم دیا کہ کھاؤتو اس نے انکار کر دیا ، ادھر محافظ اس کو آنکھ کے اشارے سے کہتا رہا کہ کھا لو، یہ اسی بکری کا گوشت ہے جو تم نے مجھے دی تھی، اس شخص نے گوشت کھانے سے انکار کر دیا تو بادشاہ نے اس کے قتل کا حکم دے دیا، جب درباری اس شخص کو لے کر گئے تو اسی محافظ نے کہا: آپ نے وہ گوشت کیوں نہ کھایا وہ وہی تھا جو آپ میرے پاس لائے تھے کیا آپ یہ سمجھےتھے کہ میں کوئی اور گوشت آپ کے لیے لایا تھا؟ اس نیک شخص نے کہا: مجھے یقین ہے تم بکری ہی کا گوشت لائے تھے لیکن مجھے یہ خوف ہوا کہ اگر میں نے وہ گوشت کھا لیا تو لوگ یہی سمجھیں گے کہ اس نے خنزیر کا گوشت کھایا ہے اور پھر جو بھی وہ ناپاک گوشت کھانا چاہے گا وہ یہی کہے گا کہ فلاں نے بھی کھایا تھا اس طرح میں لوگوں کی گمراہیت کا سبب بن جاؤں گا، یہی وجہ ہے کہ میں نے کھانے سے انکار کیا۔ پھر اس نیک شخص کو قتل کر دیا گیا۔