Brailvi Books

حِلْیَۃُ الْاَوْلِیَاء وَطَبَقَاتُ الْاَصْفِیَاء(جلد:4)ترجمہ بنام اللہ والوں کی باتیں
78 - 475
 اللہ عَزَّ  وَجَلَّکی عبادت رغبت رکھنےوالے کےقریب ہوتی ہے اور بے رغبت سے دور ہوتی ہے، جو عبادت کا لالچی ہوتا ہے وہ اسے تلاش  کر لیتا ہے اور جو اسے ناپسند کرتا ہے وہ اسے حاصل نہیں کر سکتا، عبادت میں جلدی کرنے والے سے کوئی آگے نہیں بڑھ سکتا اور جو سستی کرے وہ عبادت کو پا نہیں سکتا، جو طاعتِ الٰہی کی عزت کرے وہ اسے شرف بخشتی ہے اور جو اسے ضائع کرے اسے ذلیل کرتی ہے کِتابُ اللہ اس کی طرف رہنمائی کرتی ہے اور اللہ عَزَّ  وَجَلَّپر ایمان لانا اس پر ابھارتا ہے۔
(4735)…حضرتِ سیِّدُنا وہبرَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہفرماتے ہیں: مال کی طرح علم بھی سرکشی کا باعث ہے۔
ربّ کا پسندیدہ اورناپسندیدہ بندہ:
(4736)…حضرتِ سیِّدُنا وہب بن منبہرَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہفرماتے ہیں: حضرتِ سیِّدُنا داود عَلَیْہِ السَّلَامنے عرض کی:اے میرے ربّ!  تجھے کیسا بندہ زیادہ پسند ہے؟ ارشاد فرمایا: اچھی نماز  پڑھنے والا مومن۔ عرض کی:  اے میرے ربّ!تجھے کیسا بندہ انتہائی ناپسند ہے؟ارشاد فرمایا: اچھی صورت والا ناشکرا، کسی چیز کی ناشکری کرتا ہے اور کسی پر شکر کرتا ہے۔ حضرتِ سیِّدُنا اامام احمد بن حنبل رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہکی روایت میں یہ بھی ہے  کہ ’’اے میرے ربّ! تجھے کیسا بندہ سخت ناپسند ہے؟ ارشاد فرمایا: میرا وہ بندہ جو کسی کام میں مجھ سے استخارہ (1) (مشورہ) کرے پھر میں اسے مشورہ دوں تو وہ اس پر راضی نہ ہو۔“
اپنے نفس کو سزا:
(4737)…حضرتِ سیِّدُنا وہب بن منبہرَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہفرماتے ہیں: جنگلوں، بیابانوں میں گھومنے والا ایک شخص اللہ عَزَّ  وَجَلَّ کی عبادت کیا کرتا اور خود پر پہلے سے دگنی عبادت لازم کر لیتاچنانچہ شیطان انسانی صورت میں اس کے پاس گیااوراسے دکھانے کے واسطےاللہ عَزَّ  وَجَلَّ کی عبادت کرنےلگا اور خوب بڑھ چڑھ کر عبادت کرتا جب اس عابد نے اسے دیکھا تو اس کی کوشش اور عبادت  سے بہت متاثر ہوا ،لہٰذا جب
مـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــدینـــہ
…استخارہ کے متعلق مفیدمعلومات کےلئے دعوت اسلامی کے اشاعتی ادارے مکتبۃ  المدینہ کی مطبوعہ419 صفحات پر مشتمل  شیخ طریقت امیر اہل سنت بانِیِ دعوت اسلامی حضرت علامہ مولانا ابو بلال محمد الیاس عطاؔر قادری رضوی دَامَتْ بَرَکَاتُہُمُ الْعَالَیَہکی مشہور زمانہ تصنیف’’مدنی پنج سورہ‘‘کے صفحہ280 تا282 کا مطالعہ کیجئے۔