ہو جاؤں گا جسے مزدوری دی جائے تو کام کرتا ہے نہ دی جائے تو نہیں کرتا اور مجھے اس بات پر بھی اللہ عَزَّ وَجَلَّ سے حیا آتی ہے کہ میں کبھی جہنم سے بچنے کے لیے اس کی عبادت کروں پھر تو میں اس برے غلام کی طرح ہو جاؤں گا جسے ڈرایا جائے تو کام کرے نہ ڈرایا جائے تو نہ کرے، میں اپنے ربّ سےایسی محبت کرتا ہوں کہ اس کے سوا کوئی شوق اورخوف اس محبت کو نہیں نکال سکتا۔
(4732)…حضرتِ سیِّدُنا وہب بن منبہرَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ نے حضرتِ سیِّدُنامَکْحُولرَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہکو لکھا کہ آپ نے لوگوں کے نزدیک محبت و شرف کے لیے اسلام کا ظاہری علم حاصل کر لیا اب اللہ عَزَّ وَجَلَّکے نزدیک محبت اور مقام ومرتبہ کے لیے اسلام کا باطنی علم حاصل کریں اور یاد رکھیں عنقریب ان دونوں محبتوں میں سے کوئی ایک دوسری کو ختم کر دے گی۔
اللہ عَزَّ وَجَلَّ کے نزدیک افضل تاجر:
(4733)…حضرتِ سیِّدُناوہب بن منبہرَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ(بیٹےکووصیت کرتےہوئے)فرماتےہیں:اےمیرے بیٹے! اللہ عَزَّ وَجَلَّ کی عبادت کو اپنی تجارت بنا لےوہ تجھے دنیا وآخرت میں نفع دے گی، اللہ عَزَّ وَجَلَّپر ایمان کو کشتی بنالےجواس تجارت کابوجھ اٹھایاکرے،ربّ تعالیٰ پرتوکل کواس کشتی کاچپوبنالےاس حال میں کہ دنیاتیرا سمندر اور دن اور رات تیری موجیں ہیں اور فرض اعمال تیرا وہ مال تجارت ہے جس سے تجھے نفع کی امید ہے جبکہ نفلی عبادات تیرا تحفہ ہیں جن کے ذریعے تجھے عزت دی جائے گی اور نفلی عبادات کا لالچ ایک ایسی ہوا ہے جو ان پر چلتی ہے تو انہیں دگنا کر دیتی ہے اور نفس کو خواہشات سے روکنا تیری کشتی کے لنگر ہیں جو اسے قابو کرتے ہیں، موت اس کاساحل ہےاوراللہ عَزَّ وَجَلَّاس کامالک ہےاوراس کےنزدیک سب سےافضل تاجروہ ہےجس کا سامان اورتحائف(یعنی نفلی عبادات) زیادہ ہوں اورسب سےبُراتاجراس کےنزدیک وہ ہےجس کاسامان تھوڑا اور تحائف معمولی ہوں اورتیری تجارت ایسی ہو جو تجھے نفع دے اور تحائف ایسے ہوں کہ تیری عزت کی جائے۔
عبادت الٰہی:
(4734)…حضرتِ سیِّدُنا وہب بن منبہرَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہفرماتے ہیں: اجر پھیلا دیا گیا ہے لیکن بے عمل اس کا مستحق نہیں، تلاش نہ کرنے والا اسے پا نہیں سکتا، اس کی طرف نظر نہ کرنے والا اسے دیکھ نہیں سکتااور