(4721)…حضرتِ سیِّدُناوہب بن منبہرَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہفرماتےہیں:شرک كےبعداللہعَزَّ وَجَلَّکے نزدیک سب سے بڑا گناہ لوگوں کا مذاق اڑانا ہے۔
(4722)…حضرتِ سیِّدُنا وہب بن منبہرَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ فرماتے ہیں: جب انسان روزہ رکھتا ہے تو اس کی آنکھ پھر جاتی ہے اور جب میٹھی چیز سے افطار کرتا ہے تو وہ لوٹ آتی ہے۔
(4723)…حضرتِ سیِّدُنا وہب بن منبہرَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ فرماتے ہیں: ایک عابد کسی دوسرے عابد کے پاس سے گزرا توپوچھا: کیسے ہو؟ اس نے جواب دیا: مجھے فلاں شخص پر تعجب ہے کہ وہ عبادت میں اتنے بڑے مرتبے پر پہنچ گیا لیکن اس کا جھکاؤ اب بھی دنیا کی طرف ہے۔ پہلے عابد نے جلدی سے کہا: اس پر تعجب نہ کر کہ جھکاؤ دنیا کی طرف ہے بلکہ اس کی استقامت پر تعجب کر۔
مساکین کی رضا میں ربّ کی رضا :
(4724)…حضرتِ سیِّدُنا وہب بن منبہرَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہفرماتے ہیں: بنی اسرائیل جب تنگدستی اور سزا میں جکڑے گئے تو انہوں نے اپنے نبیعَلَیْہِ السَّلَام سے کہا: ہم چاہتے ہیں ہمیں وہ کام پتا چلے جس سے ہمارا ربّ راضی ہوجائے تاکہ ہم وہ کام کریں۔ پساللہ عَزَّ وَجَلَّنے ان کےنبی عَلَیْہِ السَّلَامکی طرف وحی فرمائی:ان لوگوں کا کہنا ہے کہ ہم چاہتے ہیں ہمیں وہ کام بتایا جائے جس سے ہمارا ربّ راضی ہو تاکہ ہم وہ کام کریں۔ انہیں بتا دیجئے کہ اگر وہ میری رضا کے طالب ہیں تو مساکین کو راضی کریں کیونکہ جب وہ مساکین کو راضی کریں گے تو میں راضی ہو جاؤں گا اور جب انہیں ناراض کریں گے تو میں بھی ناراض ہوں گا۔
قبر سے بھی تنگ جگہ:
(4725)…حضرتِ سیِّدُنا وہب بن منبہرَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہفرماتے ہیں: ایک مردے کو قبر میں اتارا جا رہاتھا اور وہاں حضرتِ سیِّدُنا عیسیٰ عَلَیْہِ السَّلَام بھی اپنے حواریوں کے ساتھ موجود تھے اتنے میں کسی نے قبر کے اندھیرے، وحشت اور تنگی کا ذکر کیا تو آپ عَلَیْہِ السَّلَامنے ارشاد فرمایا: اس سے پہلے تم میں سے ہر ایک اس سے بھی تنگ جگہ یعنی اپنی ماں کے رحم میں تھا پس اگراللہ عَزَّ وَجَلَّقبر کو کشادہ فرمانا چاہے گا کشادہ فرما دے گا۔