Brailvi Books

حِلْیَۃُ الْاَوْلِیَاء وَطَبَقَاتُ الْاَصْفِیَاء(جلد:4)ترجمہ بنام اللہ والوں کی باتیں
73 - 475
(4717)…حضرتِ سیِّدُنا وہب بن منبہ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ فرماتے ہیں:اللہ عَزَّ   وَجَلَّ نے ہوا کو حکم دیا تو مخلوق میں سے جو کوئی بھی کلام کرتا  ہوا اس کی آواز حضرتِ سیِّدُنا سلیمانعَلَیْہِ السَّلَام کے کانوں تک پہنچا دیتی۔ اسی سبب سے آپ عَلَیْہِ السَّلَام نے چیونٹی کا کلام سن لیا۔
مصر کی مچھلی:
(4718)…حضرتِ سیِّدُنا ابو بکر بن عیاش رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ فرماتے ہیں: حضرت سیِّدُنا  وہب بن منبہرَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ کے پاس لوگ جمع تھے۔آپ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ نے ان سے فرمایا: اللہ عَزَّ   وَجَلَّ کا کون سا حکم بہت جلد پورا ہوا؟ کسی نے کہا: بلقیس کے تخت کے بارے میں جب کہ وہ حضرتِ سیِّدُناسلیمان عَلَیْہِ السَّلَام کے پاس لایا گیا۔ ایک  نےکہا (قیامت کا معاملہ جیسا)کہ ربّ تعالیٰ کا فرمان ہے: کَلَمْحِ الْبَصَرِ اَوْ ہُوَ اَقْرَبُ (پ۱۴،النحل:۷۷)	
ترجمۂ کنز الایمان: جیسے ایک پلک کا مارنا بلکہ اس سے بھی قریب۔
	حضرتِ سیِّدُنا وہب بن منبہرَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ نے فرمایا:اللہ عَزَّ   وَجَلَّ کا تیز ترین امر یہ تھا کہ حضرتِ سیِّدُنا  یونس بن متّٰی عَلٰی نَبِیِّنَاوَعَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کشتی کے کنارے  پر تھے  کہ اللہ عَزَّ  وَجَلَّنے مصر کے دریائے نیل سے ایک مچھلی بھیجی ایک لمحہ بھی نہ گزرا تھا کہ آپ کشتی کے کنارے سےاس مچھلی کے پیٹ میں پہنچ گئے۔
فضل الٰہی:
(4719)…حضرتِ سیِّدُنا وہب بن منبہرَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ فرماتے ہیں:بنی اسرائیل کےایک شخص نے 40 سال بیابانوں میں عبادت کی تو اس نے قبولیت کی علامت کو دیکھ لیا، پھر بدکاری سے پیدا ہونے والے ایک شخص نے بھی اسی طرح چالیس سال عبادت کی لیکن اسے ایسا کچھ نظر نہ آیا تو اس نے کہا: اے میرے ربّ! اگر میں نیک عمل کر رہا ہوں اور میرے باپ نے برائی کی ہے تو اس میں میراکیا قصور ہے؟ اس کے بعد اسے وہ کچھ نظر آنے لگا جو دوسرے نہ دیکھ سکتے تھے۔
(4720)…حضرتِ سیِّدُنا وہب بن منبہرَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہفرماتے ہیں: دنیا وآخرت کی مثال دو سوکنوں کی سی ہے اگر ایک کو راضی کیا جائے تو دوسری ناراض ہو جاتی ہے۔