Brailvi Books

حِلْیَۃُ الْاَوْلِیَاء وَطَبَقَاتُ الْاَصْفِیَاء(جلد:4)ترجمہ بنام اللہ والوں کی باتیں
72 - 475
 میں نے جب سے اللہ عَزَّ   وَجَلَّ سے کلا م  کیا ہے مجھے عورتوں کی طرف حاجت نہیں رہی۔ آپ کی  بہن نے اپنی بات پر اصرار کیا تو آپ نے ان کے خلاف دعا کر دی جس سے ان کو برص ہو گیا۔ جب آپ نے اپنی بہن کو برص زدہ دیکھاتو آپ کو دکھ ہوا ۔ چنانچہ اپنے بھائی حضرتِ ہارونعَلَیْہِ السَّلَام کو بلاکرفرمایاکہ روزے رکھو۔حضرتِ سیِّدُنا موسیٰ اورحضرتِ سیِّدُناہارونعَلَیْہِمَا السَّلَامنےتین دن لگاتارروزے رکھے، ٹاٹ کا لباس پہنا اور ریت پر لیٹ کر اپنے ربّعَزَّ  وَجَلَّ سے  دعا کرنے لگے یہاں تک کہ اللہ عَزَّ   وَجَلَّ نے ان کی دعا سے ان کی بہن کی بیماری  دور فرما دی۔
چہرے پر نور:
(4715)…حضرتِ سیِّدُنا وہب بن منبہرَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ فرماتے ہیں:اللہ عَزَّ  وَجَلَّ نے حضرتِ سیِّدُنا موسیٰ عَلٰی نَبِیِّنَاوَعَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام سے ہزار مقامات پر کلام فرمایا اور جب آپ عَلَیْہِ السَّلَاماللہ عَزَّ   وَجَلَّ سے کلام کرتے تو  آپ کے چہرہ مبارک   پر تین دن تک نور چھایا رہتا  اور جب سے حضرتِ سیِّدُنا موسٰی عَلَیْہِ السَّلَاماللہ عَزَّ   وَجَلَّ سے ہم کلام ہوئے آپ نے عورت کو نہ چھوا (یعنی بیوی سے قربت نہ کی)۔
بار ِنبوت:
(4716)…حضرتِ سیِّدُنا وہب بن منبہ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہنے فرمایا: نبوت کی ذمہ داریاں بہت بھاری اور محنت طلب ہیں انہیں مضبوط شخص ہی اٹھا سکتا ہے اورحضرتِ سیِّدُنا یونس بن متّٰیعَلَیْہِ السَّلَام نیک بندے تھے جب انہیں نبوت سونپی گئی تو گویا وہ اس کے بوجھ تلے دب گئے اور اس کی ذمہ داریوں سے دوسری طرف چلے،اللہ عَزَّ  وَجَلَّنے اپنے حبیبِ کریم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمسے ارشاد فرمایا: 
فَاصْبِرْ کَمَا صَبَرَ اُولُوا الْعَزْمِ مِنَ الرُّسُلِ (پ۲۶،الاحقاف:۳۵)
ترجمۂ کنز الایمان: تو تم صبر کرو جیسا ہمت والے رسولوں نے صبر کیا۔
	مزید ارشادفرمایا:
فَاصْبِرْ لِحُکْمِ رَبِّکَ وَ لَا تَکُنۡ کَصَاحِبِ الْحُوۡتِ ۘ اِذْ نَادٰی وَ ہُوَ مَکْظُوۡمٌ ﴿ؕ۴۸﴾ (پ۲۹،القلم:۴۸)
 ترجمۂ کنز الایمان: تو تم اپنے رب کے حکم کا انتظار کرو اور اس مچھلی والے کی  طرح نہ ہونا جب اس حال میں پکارا کہ اس کا دل گھٹ رہا تھا۔