Brailvi Books

حِلْیَۃُ الْاَوْلِیَاء وَطَبَقَاتُ الْاَصْفِیَاء(جلد:4)ترجمہ بنام اللہ والوں کی باتیں
71 - 475
ہی  راہب تک بھی پہنچ گئی۔ جب وہ دن آیا تو راہب نے سوچاکہ آج بادشاہ آئے گا چنانچہ وہ اپنی عبادت گاہ کے سامنے قربان گاہ میں گیااور ایک برتن جس میں تیل، چنے اور لوبیا تھا اپنے پاس رکھ لیا،ادھر بادشاہ اتنے لوگوں کے ساتھ اس  راہب کے پاس  پہنچا  کہ کیامیدان کیا پہاڑ سب ہی لوگوں سے بھر گئے۔راہب نے وہ لوبیا کھانا شروع کردیا، بڑے بڑے لقمے لیتا تیل میں ڈبوتا اور کھا جاتا اس کے پا س کون آیا ہے کون نہیں کچھ بھی نہیں دیکھ رہا تھا۔بادشاہ نے کہا: کہاں ہے وہ راہب؟ لوگ بولے: وہ یہی ہے۔ بادشاہ نے  راہب سے کہا کہ آپ کاکیا حال ہے؟راہب جوکہ  کھانے میں مصروف تھا کہنے لگا: میرا حال لوگوں کی طرح ہے۔ بادشاہ نے اپنی سواری کی لگا م تھامی اور یہ کہتے ہوئےچل دیا  کہ اس میں تو کوئی خیرنہیں۔ جب وہ چلا گیا تو راہب نے کہا:اللہ عَزَّ   وَجَلَّ کا شکر ہے جس نے بادشاہ کو مجھ سے  اس طرح دور کیا کہ وہ مجھے برا بھلا  کہہ رہا تھا۔
اصل بخیل کون ہے؟
(4713)…حضرتِ سیِّدُنا  وہب بن منبہرَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ فرمایا کرتے تھے: لوگوں میں  سب سے زیادہ  دنیا سے منہ پھیرنے والا وہی ہے جو صرف کسبِ حلال پر رضا مند ہواگرچہ وہ دنیا پر حریصوں کی طرح گرا ہوا ہو۔ لوگوں میں سب سے  زیادہ دنیا  کی طرف مائل ہونے والا وہ ہے جو اپنےکمائی کے حلال یا حرام ہونے کی کچھ پروا نہ کرتا ہو اگرچہ بظاہر وہ دنیا سے اعراض ہی کرتا ہو۔ لوگوں میں سب سے زیادہ  سخی  وہ ہے جو حُقُوقُاللہ کی ادائیگی میں جلدی کرے اگرچہ اس کے علاوہ دیگر امور میں لوگ اسے بخیل خیال کرتے ہوں اور لوگوں میں سب سے زیادہ  بخیل  وہ ہے جو حُقُوقُاللہکی ادائیگی میں بخل کرے اگرچہ اس کے علاوہ دیگر امور میں لوگ اسے سخی خیال کرتےہوں۔
بہن کے لئے دعا:
(4714)…حضرتِ سیِّدُنا وہب بن منبہ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہفرماتے ہیں:حضرتِ سیِّدُنا موسٰیعَلَیْہِ السَّلَام کی ایک بہن تھی جس کا نام مریم تھا اس نے ایک دن آپ سے کہا:اے موسٰی! آپ نے حضرتِ سیِّدُنا شعیب  عَلَیْہِ السَّلَام کی آل میں نکاح کیا کیونکہ آ پ کے پاس کچھ مال و اسباب نہ تھا اور آج جب آپ نے کچھ پالیا ہے تو بنی اسرائیل کے قبائل میں نکاح کر لیں۔ آپعَلَیْہِ السَّلَامنےفرمایا:میں بنی اسرائیل کےقبائل میں نکاح کیونکر کروں؟اللہعَزَّوَجَلَّ کی قسم!