فقیری سرخ موت ہے:
(4710)…حضرتِ سیِّدُنا وہب بن منبہرَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ فرماتے ہیں: تورات میں یہ چار باتیں بھی ہیں: (۱)… جو مشورہ نہیں کرتا ندامت اٹھاتا ہے(۲)… جو مالدار ہوتا ہے خود کو ترجیح دیتا ہے(۳)… فقیری سرخ موت ہے(۴)…جیسا کرو گے ویسا بھرو گے۔
نیکیاں چھپانے کی انوکھی ترکیب:
(4711)…حضرتِ سیِّدُنا وہب بن منبہرَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ فرماتے ہیں: ایک آدمی اپنے زمانے کے لوگوں میں سب سے افضل تھا،لوگ اس کی زیارت کو آتے اور وہ ان کووعظ و نصیحت کرتا، ایک دن لوگ اس کے پاس جمع ہوئے تو اس نے کہا : ہم دنیا سے نکالے گئے اور ہم نے نافرمانی کے خوف سے اپنے اہل ،اولاد،وطن اور اموال سب کوچھوڑالیکن مجھے خوف ہے کہ اپنے اہل اور اموال میں رہنے والوں کی بنسبت ہم پر نا فرمانی زیادہ غالب ہے، ہم میں سے ہر ایک چاہتا ہے کہ اس کی حاجات پوری ہوں، وہ کچھ خریدے تو اس کے دینی مرتبہ کا لحاظ رکھا جائے، کسی سے ملے تب بھی دینی مرتبہ کی وجہ سے عزت دیا جائے۔ یہ بات پھیلتے پھیلتے بادشاہ تک پہنچ گئی۔ بادشاہ کو یہ بات پسند آئی اور وہ اس شخص کی زیارت کے لیے نکلا۔ ایک آدمی نے اسے بتایا کہ بادشاہ آپ کو سلام کرنے کے لیے آ رہا ہے ۔ اس شخص نے کہا: وہ کیوں آرہا ہے ؟آدمی بولا: آپ کے وعظ و نصیحت کی وجہ سے۔ وہ شخص بولا: کیا تمہارے پاس کھانے کو کچھ ہے؟آدمی نے کہا: ایک درخت کے پھل ہیں جس سے آپ افطاری فرماتے ہیں، چنانچہ وہ پھل لائے گئے تواس شخص نے اپنے سامنے رکھ لیے اور ان میں سے کھانا شروع کر دیا،حالانکہ وہ دن میں روزہ رکھتا تھا۔ بادشاہ اس کے پاس آیا اور سلام کیا۔ اس نے ہلکی سی آواز سے جواب دیا اور کھانے میں مصروف رہا۔بادشاہ بولا: وہ نیک آدمی کہاں ہے؟ جواب ملا:وہ یہی تو ہے۔ بادشاہ نے کہا: کون!یہ جو کھا رہا ہے؟ جواب ملا: جی حضور۔بادشاہ بولا: اس بندے کے پاس تو کوئی بھلائی نہیں۔ یہ کہا اور واپس لوٹ گیا۔ اس شخص نے بادشاہ کے جانے پر کہا: تمام تعریفیں اللہ عَزَّ وَجَلَّ کے لیے جس نے تجھے مجھ سے پھیر دیا۔
(4712)…حضرتِ سیِّدُناوہب بن منبہرَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہفرماتےہیں:ایک راہب تھا ۔بادشاہ کو اس کے اعلیٰ مرتبے کا علم ہوا تو کہا کہ میں فلاں دن لازمی اس کے پاس جاؤں گا اور اسے سلام عرض کروں گا۔ یہ خبر جلد