کی زبانیں میرے ذکر سے تر رہتی ہیں۔ ا ے داؤد!کیا تم جانتے ہو کہ مؤمنین میں سے میرے ہاں کس کا مرتبہ بڑا ہے؟ اس کا جوپاس رکھنے کے بجائے دینے پر خوش ہوتاہے۔ا ے داؤد!کیا تم جانتے ہو کہ کون سے فقرا افضل ہیں؟وہ جو میرے فیصلے اور تقسیم سے راضی رہتے ہیں اور جو رزق میں نے ان کو عطا کیا اس پر میرا شکر ادا کرتے اور حمد بیان کرتے ہیں۔ اے داؤد! کیا تم جانتے ہوکہ مؤمنین میں سے کس کو لمبی عمرعطا کرنا مجھے محبوب ہے؟ اُس کوجس کی کھال لَا اِلٰہَ اِلَّا اللّٰہ کہتے وقت کانپ اٹھتی ہے،میں اس کو موت دینا اسی طرح ناپسند کرتا ہوں جس طرح باپ اپنے بیٹے کی موت ناپسند کرتا ہے حالانکہ موت ضرور آنی ہے، میں چاہتا ہوں کہ اسے اس گھر کے علاوہ دوسرے گھر میں خوش رکھوں، کیونکہ اس گھر(یعنی دنیا) کی نعمتیں تو آزمائش اور اس کی آسانیاں بھی شدت ہیں۔ دنیا کی نعمتوں کے تو دشمن ہیں اور ان کے فتنے خون کے ساتھ گردش کرتے ہیں ان سے امن نہیں، اسی لیے میں اپنے ولیوں کو جنت بھیجنے میں جلدی کرتا ہوں اگر ایسا نہ ہوتا تو(حضرت)آدم(عَلَیْہِ السَّلَام) اور ان کی مومن اولاد صور پھونکے جانے تک فوت نہ ہوتے۔
اے داؤد! جو تم اپنے دل میں سوچ رہے ہو میں وہ جانتا ہوں، تم یہ سوچ رہے ہوکہ میں نے نیک بندوں کو موت دے کر ان کی عبادت کو منقطع کر دیا ۔اے داؤد! کیا تم جانتے نہیں کہ میں مومن کی چھوٹی چھوٹی تکلیفوں پر بھی مدد کرتا ہوں تو موت جو کہ سب سےبڑی مصیبت ہے اس پر مدد کیوں نہ کروں گا۔ تم مومن کے پاکیزہ جسم کو زمین کی تہوں میں بھی دیکھو گے میں جب تک چاہوں گا عرصہ دراز تک اسے یوں ہی رکھوں گاتا کہ اس کے سبب اس کے اجر میں اضافہ ہو اور اسے قیامت تک اپنےعمل کا اچھا بدلہ ملے گا۔ حضرتِ سیِّدُنا داؤدعَلَیْہِ السَّلَام نے عرض کی:الٰہی! تیرے لئے ہی تمام تعریفیں ہیں اسی وجہ سے تو نے خود کو اَرْحَمُ الرَّاحِمِیْنفرمایا ہے۔ اے اللہ! جو تیری رضا کی خاطر کسی مصیبت زدہ غمگین کی تعزیت کرے اس کا کیا اجر ہے؟اللہ عَزَّ وَجَلَّ نے ارشاد فرمایا:اس کا بدلہ یہ ہے کہ میں اسے ایمان کی چادر پہنا ؤں گا اور پھر کبھی نہ اتاروں گا۔حضرتِ سیِّدُنا داؤدعَلَیْہِ السَّلَام عرض گزار ہوئے:اے اللہ! جو تیری رضا کے لیے جنازے کے ساتھ چلے اس کاکیااجرہے؟ارشادہوا:اس کااجریہ ہےکہ جس دن وہ مرےگامیرےفرشتےاسےگھیرلیں گےاورمیں اس کی روح پررحمت بھیجوں گا۔حضرتِ سیِّدُناداؤدعَلَیْہِ السَّلَامنےپھر عرض کی:اےاللہ!تیری رضاکی خاطر بیواؤں