Brailvi Books

حِلْیَۃُ الْاَوْلِیَاء وَطَبَقَاتُ الْاَصْفِیَاء(جلد:4)ترجمہ بنام اللہ والوں کی باتیں
67 - 475
زبور شریف کی 30 سطریں:
(4708)…حضرتِ سیِّدُنا عبدالصمد بن معقل عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْقَادِرْفرماتے ہیں: میں نے مسجد حرام میں ایک آدمی کو دیکھا جو میرے چچا حضرتِ سیِّدُنا وہب بن منبہ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ سے زبور شریف سےنصیحت کا مطالبہ کر رہا ہے۔چچانےفرمایا:ہاں میں نے زبور شریف کی آخری تیس سطروں میں پڑھاکہاللہ عَزَّ   وَجَلَّنے ارشاد فرمایا: اے داؤد !مجھ سےسنواورمیں حق  کہتا ہوں: جو مجھےاس حال میں ملے گا کہ مجھ سےمحبت کرتا ہو گا تومیں اسے اپنی جنت میں داخل کروں گا۔اے داؤد! مجھ سےسنواورمیں حق  کہتا ہوں: جو مجھےاس حال میں ملے گا کہ میرے عذاب سے خوف رکھتا ہو گا تو میں اسے عذاب نہ دوں گا۔اے داؤد! مجھ سے سنو اور میں حق  کہتا ہوں: جو مجھ سے اس حال میں ملے گا کہ اپنے گناہوں کی وجہ سے مجھ سے حیا کرتا ہو گا تو میں محافظ فرشتوں کو اس کے گناہ بھلا دوں گا (یعنی اس کو بخش دوں گا)۔اے داؤد! مجھ سےسنواورمیں حق  کہتا ہوں: اگر میرا کوئی بندہ  مشرق و مغرب  کو گناہوں سے بھر دے اور پھر بکری کے دودھ دوہنے کی مقدار جتنا ہی شرمندہ ہو جائے اور مجھ سے ایک ہی بار مغفرت طلب کرے اوراس کے دل میں بھی یہی ہو کہ وہ دوبارہ گناہ نہ کرے گا تو میں آسمان سے زمین پر گرنے والے بارش کے قطرے سے بھی زیادہ جلدی اس کے گناہ مٹا دیتا ہوں۔اے داؤد! مجھ سےسنواورمیں حق  کہتا ہوں: اگر میرا کوئی بندہ صرف ایک ہی نیکی لے کر آئے تو میں اس کے حق میں جنت کا فیصلہ کردوں گا۔ حضرتِ سیِّدُنا داؤدعَلَیْہِ السَّلَام عرض گزار ہوئے: اگر یہ بات ہے تو جو تیری معرفت رکھتاہے اسے جائز ہی نہیں  کہ تجھ سے اپنی امید توڑ دے۔ اللہ عَزَّ   وَجَلَّ نے ارشاد  فرمایا: اے داؤد! میرے ولیوں کو تھو ڑا سا عمل ہی کافی ہے جیسا کہ کھانے میں نمک تھوڑا  ہی کافی ہوتا ہے۔ اے داؤد! کیا تم جانتے ہو کہ میں کب ان کو اپنا ولی بناتا ہوں؟ جب ان کا دل شرک سے پاک ہو جائے، ان کےدل سے شک زائل ہو جائےاور ان کا اعتقاد مضبوط ہو جائے کہ جنت اور دوزخ  میرے ہی قبضے میں ہیں،میں ہی زندگی و موت دیتا ہوں اور قبروں میں دفن لوگوں کو میں ہی اٹھانے والا ہوں،میں  بیوی رکھتا ہوں نہ اولاد۔ پس جب میں ان کو موت دوں اور ان کے پاس تھوڑا سا عمل ہو جس پر وہ یقین رکھتے ہوں تو میں ا س تھوڑے کو ان کے لئےزیادہ کردوں گا۔ ا ے داؤد! کیا تم جانتے ہوکہ پل صراط پر  تیزی سے گزرنے والے کون ہوں گے؟ وہ جو میرے فیصلے پر راضی رہتے ہیں اور ان