Brailvi Books

حِلْیَۃُ الْاَوْلِیَاء وَطَبَقَاتُ الْاَصْفِیَاء(جلد:4)ترجمہ بنام اللہ والوں کی باتیں
66 - 475
ذکر کی فضیلت:
(4705)…حضرتِ سیِّدُنا وہب بن منبہرَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ فرماتے ہیں:حضرتِ سیِّدُنا موسیٰ عَلٰی نَبِیِّنَاوَعَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام نے ربّ تعالیٰ کی بارگاہ میں عرض کی :یا الٰہی!جو  زبان اور دل سے تیرا ذکر کرتا ہے اس کا اجر کیا ہے؟ اللہ عَزَّ   وَجَلَّ  نے ارشاد فرمایا: اے موسیٰ!میں بروز قیامت اسے اپنے عرش کے سائے اور اپنی حفاظت میں رکھوں گا۔ حضرتِ سیِّدُنا موسٰیعَلَیْہِ السَّلَام نے عرض کی: اے مولا! تیرے  بندوں میں سےبدبخت کون ہے؟ اللہ عَزَّ   وَجَلَّ نے ارشاد  فرمایا:جس کو نصیحت کوئی فائدہ نہ دے اور نہ ہی وہ تنہائی میں میرا ذکر کرے ۔
اللہکے محبوب بندے:
(4706)…حضرتِ سیِّدُناوہب بن منبہرَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہفرماتےہیں:حضرتِ سیِّدُناموسٰیکَلِیْمُاللہعَلٰی نَبِیِّنَا وَعَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام نےعرض کی:یااللہ عَزَّ   وَجَلَّ!تجھےتیرےبندوں میں سےمحبوب ترین کون ہیں؟اللہعَزَّ   وَجَلَّ نےارشاد فرمایا:مریضوں کی عیادت کرنے والے،بیواؤں سے تعزیت کرنےوالےاورجنازوں کےساتھ چلنے والے۔
ایک عالم سے سوال جواب:
(4707)…حضرتِ سیِّدُناوہب بن منبہرَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہفرماتےہیں:ایک عالِم نےاپنےسےبڑےعالِم سے پوچھا: میں گھرکی تعمیرکس حد تک کروں؟ دوسرےعالِم نےجواب دیتے ہوئے کہا: اتنی کہ تجھے دھوپ اور بارش سے بچا لے۔سائل نے پوچھا: میں کتنا کھانا کھاؤں؟عالم نےکہا:جس سے بھوک ختم ہو جائے اور پیٹ بھی نہ بھرے۔ سائل نے پوچھا: کتنا لباس پہنوں؟ عالم نے کہا:جتنا حضرتِ سیِّدُنا عیسیٰعَلَیْہِ السَّلَام نے پہنا۔ سائل نے پوچھا: کتنا ہنسوں؟ عالم نے کہا:اتنا کہ تیرا چہرہ توکِھل اٹھے مگر آواز نہ آئے۔سائل نے پوچھا: کتنا روؤں؟ عالم نے کہا:اتناکہ توخوفِ خداسے رونےسےاکتانہ جائے۔سائل نےپوچھا:کتناعمل چھپاؤں؟عالِم نےکہا:اتناکہ حریص تیرا ہمنشین نہ بنے اور لوگ تیرے خلاف باتیں نہ کریں۔ مزید کہا: میں نے ایک راہب کو کہتے ہوئے سنا کہ ہر شے کے دو کنارے اور ایک  درمیان ہوتا ہے۔ اگر تم ان میں سے ایک کنارے کو پکڑو گے تو دوسرا کنارہ جھک جائے گا اور اگردرمیان سے پکڑو گے تو دونوں کنارے برابر رہیں گےلہٰذا ہر شے میں میانہ روی کو  خود پر لازم کر لو۔