حکایت: ایک راہب اور عابد کا مکالمہ
(4702)…حضرتِ سیِّدُنا وہب بن منبہ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ فرماتے ہیں: ایک عابد(عبادت گزار) کا ایک راہب کے پاس سے گزرہواتو اس کے قریب جا کر پوچھا: تم اس گرجا میں کتنے عرصہ سے ہو؟
راہب: 60سال سے۔
عابد: تم نے یہاں60سال تک کس طرح صبر کیا؟
راہب: بس گزر گئے، دنیا گزرنےوالی چیز ہے۔
عابد: تم موت کو کس طرح یاد کرتے ہو؟
راہب: میرا خیا ل ہے جو بندہ اللہ عَزَّ وَجَلَّ کی معرفت رکھتا ہے اس کی کوئی گھڑی ذِکْرُ اللہ کے بغیر نہیں گزرتی اور میں جب بھی قدم اٹھاتا ہوں تو مجھے موت کے ڈر سے رکھنے کی امید نہیں ہوتی۔
عابدنے رونا شروع کردیاتو راہب نے کہا: تیرا جلوت میں(دوسروں کے سامنے) رونے کایہ حال ہے تو تیری خلوت (تنہائی)کیسی ہو گی؟
عابد: میں وقتِ افطار روتا ہوں تو پینے کے پانی میں آنسو بھی پیتا ہوں، میرا کھانا میرے آنسوؤں سے تر ہو جاتا ہے، جب مجھ پر نیند کا غلبہ ہوتا ہے تو میرابستر رونے کی وجہ سے بھیگ جاتا ہے۔
راہب: تمہارا ہنسا اورساتھ ہی بارگاہِ الٰہی میں اپنے گناہ کا اقرار کرناتمہارے لئے اس رونے سے بہترہے جس میں اللہ عَزَّ وَجَلَّ کے سامنے فخر کرنا شامل ہو۔
عابد: مجھے کوئی نصیحت فرمائیے۔
راہب: دنیا میں شہد کے چھتے کی طرح رہو، اگر کھایا جائے تو اچھا،رکھا جائے تو بھی اچھا اور اگرگرایا جائے تو نہ کسی کا نقصان کرے ا ور نہ تکلیف دے اور دنیا میں گدھے کی طرح نہ رہنا جس کا مقصد صرف پیٹ بھرنا اور پھر خود کو زمین پر لوٹ پوٹ کرنا ہوتا ہے۔ اللہ عَزَّ وَجَلَّ کے لیے ایسے مخلص ہو جاؤ جیسے کتااپنے مالکوں کے لیے وفادار ہوتا ہے، وہ اسے بھوکا بھی رکھتے ہیں دھتکارتے بھی ہیں مگر وہ پھر بھی ان کی حفاظت کرتا ہے۔
راوی فرماتے ہیں: جب حضرتِ سیِّدُنا طاؤسرَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ نے یہ روایت ذکرکی تو رونے لگے اور