Brailvi Books

حِلْیَۃُ الْاَوْلِیَاء وَطَبَقَاتُ الْاَصْفِیَاء(جلد:4)ترجمہ بنام اللہ والوں کی باتیں
470 - 475
 کوڑا اٹھا لیا، جب ان دونوں نے یہ معاملہ دیکھا تو فرمایا:انہوں نے سچ کہاہے۔(1)
چار طرح کے دل:
(6093)…حضرتِ سیِّدُنا ابو سعید رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ فرماتے ہیں کہ معلّمِ کائنات، شاہِ موجودات صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے ارشاد فرمایا: دل چار طرح کے ہیں(۱)…انتہائی صاف دل جس میں چراغ کی مانند ایک چیز ہے یہ مومن کا دل ہےجس میں اس کا چراغ اس کا نور ہوتا ہے (۲)…وہ دل جو غلاف میں لپٹا ہوا ہے یہ کافر کا دل ہے(۳)…وہ دل جو اوندھا پڑا ہے  یہ منافق کا دل ہے،جو جان بوجھ کر  انکار کرتا ہے اور (۴)…دو رُخا دل جس میں ایمان بھی ہے اور نفاق بھی، اس میں ایمان کی مثال سبزی کی طرح ہے  جو پاکیزہ پانی سے نشو ونما پاتی ہے اور نفاق کی مثال اس ناسور کی سی ہے جسے پیپ اور گندا خون مزید بڑھاتے ہیں ان دونوں مادوں میں سے جو زیادہ بڑھا اس شخص پر اسی کا غَلَبَہ ہوتا ہے۔(2)
(6094)…حضرتِ سیِّدُنا سلمان رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ فرماتے ہیں کہ اللہ عَزَّ  وَجَلَّ کے حبیب، حبیب لبیب صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے فرمایا: عالِم کا سونا جاہل کی نماز سے بہتر ہے۔(3)
(6095)…حضرتِ سیِّدُناابو بَخْتَریعَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْقَوِیفرماتےہیں:میں نےحضرتِ سیِّدُناعبداللہ بن عباس رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُمَا سے  کھجوروں کی بیع سلم (4)کے بارے میں سوال کیا تو آپ نے فرمایا کہ تمام نبیوں کے سرور، سلطانِ بحر وبر صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے  کھجور کی بیع سے اس وقت تک منع فرمایا ہے جب تک کہ وہ کھانےیا کیل(ناپنے) یا وزن کرنے کے قابل نہ ہو جائیں۔ ایک شخص نے آپ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ سے عرض کی: وزن سے کیا مراد ہے؟(یعنی وہ تو درخت پر ہیں تو کیسے وزن کریں گے)آپ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ کے پاس ایک شخص 
مـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــدینـــہ
…مسند احمد، مسند ابی سعید الخدری،۸/ ۱۳۷،حدیث:۲۱۶۲۹
	تفسیر در منثور، پ۳۰، سورة النصر،اٰیة ۱ ،۸/ ۶۶۱
2…مسند احمد، مسند ابی سعید الخدری،۴/ ۳۶،حدیث:۱۱۱۲۹،بتغیرقلیل
3…کنز العمال، کتاب العلم،قسم الاقوال،الباب الاول،۱۰/ ۶۱،حدیث:۲۸۷۰۷
4…بیع سلم: وہ بیع جس میں ثمن(قیمت) فوراً ادا کرنا ضروری ہواورمبیع(فروخت شدہ چیز) کو بعد میں خریدار کے حوالے کرنا بیچنے والے پر لازم ہو۔(اصطلاحاتِ بہار شریعت، ۲/۱۵)