گا۔“ آپ نے عرض کی: ”اے امیرالمؤمنین! کیا آپ جان بوجھ کے انجان بن کر اپنے یقین کو شک میں بدل رہے ہیں؟“ امیرالمؤمنین نے فرمایا:آپ کو اپنی بات کی وضاحت کرنی پڑے گی۔ آپ نے عرض کی: ”ٹھیک ہے، یاد کیجئے! وہ وقت جب اللہ عَزَّ وَجَلَّ کے محبوب، دانائے غیوب صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے آپ کو صدقہ وصول کرنے کے لئے بھیجا تھا اور آپ حضرتِ عباس رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ کے پاس آئے تھےاور انہوں نے آپ کو صدقہ دینے سے انکار کر دیا تھا پھر آپ میرے پاس آئے تھے اور مجھ سے کہا تھا: حضرتِ عباس رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ نے مجھے صدقہ دینے سے انکار کر دیا ہے لہٰذا آپ میرے ساتھ بارگاہِ رسالت میں چلیے، تو میں آپ کے ساتھ رسولُ اللہ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم دبار گہربار میں حاضر ہوا لیکن آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کو مغموم پا کر کوئی بات کیے بغیر ہم واپس آگئے، پھر دوبارہ گئے تو انہیں خوش پایا، آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے ارشاد فرمایا: میرے پاس دو دینار بچے ہوئےتھے اور میں ان کی وجہ سے مغموم تھا حتّٰی کہ میں نے انہیں (راہ خدا میں) خرچ کر دیا۔ پھر آپ نے عرض کی:حضرتِ عباس (رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ) نے صدقہ دینے سے انکار کردیا ہے۔ تو حضور نبیّ کریمصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے فرمایا:”عَمُّ الرَّجُلِ صِنْوُ اَبِيْهِیعنی چچا باپ کی جگہ ہے۔“یہ سن کر امیرالمؤمنین حضرتِ سیِّدُناعُمَر بن خطاب رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ نے فرمایا: یقیناً ان دونوں مواقعوں کے لئے آپ کا احسان مند ہوں۔ آپ نے عرض کی: آپ شکریہ میں تو تاخیر کرتے ہیں جبکہ سزا میں تاخیر نہیں کرتے۔(1)
بن مانگے عطا فرمانے والے:
(6083)…حضرتِ سیِّدُنا ابو بختری رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہسے روایت ہے کہ امیرالمؤمنین حضرتِ سیِّدُنا علیُ المرتضٰی کَرَّمَ اللہُ تَعَالٰی وَجْہَہُ الْکَرِیْم نے فرمایا: جب میں دو عالَم کے مالک و مختار صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم سے سوال کرتا ہوں تو آپ مجھے عطا فرماتے ہیں۔ یا فرمایا: جب مجھ سے کسی نے کچھ مانگا تو میں نے اسے دیا اور جب نہ مانگا تو میں نے بن مانگے دیا۔(2)
مـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــدینـــہ
…مسند احمد، مسند علی بن ابی طالب ، ۱/ ۲۰۲،حدیث:۷۲۵،بتغیرقلیل
مسلم،کتاب الزکاة ،باب فی تقديمِ الزكاة ومنعها،ص۴۸۹،حديث: ۹۸۳
2…سنن الکبرٰی للنسائی، کتاب الخصائص،باب ۳۸، ۵/ ۱۴۲،حدیث:۸۵۰۴، ۸۵۰۵